Al-Risala · January 2012 · page

This is a spiritual gift for you.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

فطرت کے ان مناظر کو دیکھ کر میں نے کہا کہ مومن کے لیے یہ مناظر ایک کائناتی سامانِ معرفت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر عارفانہ ذہن پیدا ہو چکا ہو تو اس کے لیے یہ پورا سفر ایک ربانی تجربہ بن جائے گا۔ وہ تخلیق کے مناظر میں خالق کی موجودگی (presence) کا تجربہ کرے گا۔ اس کے لیے یہ پورا سفر معرفت بن جائے گا۔

تقریباً 2 گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد ہم لوگ فلیڈ یلفیا میں خواجہ کلیم الدین کے مکان پر پہنچے۔ اُن کا یہ مکان شہر سے دور ایک دیہی علاقہ (countryside) میں واقع ہے جس کا نام بن سلیم (Bensalem) ہے۔ امریکا میں دیہی علاقے نہایت صاف ستھرے اور پرفضا ہوتے ہیں۔ لوگ عام طور پر شہروں میں بزنس یا جاب کرتے ہیں اور دیہی علاقے میں گھر لے کر یہاں رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہاں کے دیہی علاقوں میں وہ تمام سہولتیں پوری طرح موجود ہوتی ہیں جو بڑے بڑے شہروں میں پائی جاتی ہیں۔

اس سفر کا پہلا اجتماع 16 جون 2011 کی شام کو خواجہ کلیم الدین صاحب کے مکان پر ہوا۔ یہ ایک پرفضا اور وسیع مکان تھا۔ یہاں الرسالہ مشن سے وابستہ افراد، عورت اور مرد، دور دور سے آئے۔ اس موقع پر میں نے دعوت کے موضوع پر آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کو سچا داعی بننا ہے تو اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ آپ اپنے دل کو مدعو کی نفرت سے پاک کریں۔ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل ماحول کے بغیر دعوت کا کام کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں، داعی کو یک طرفہ صبر و اعراض کی تعلیم دی گئی ہے۔ تقریر کے بعد حاضرین کو بولنے کا موقع دیا گیا۔ ہر ایک نے دعوتی مشن کی نسبت سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

میں نے کہا کہ امریکا میں دعوت کے کام کو منظم طور پر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ لوگ اپنے درمیان ایک شخص کو امیر مقرر کریں۔ مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ خواجہ کلیم الدین صاحب امریکا کے دعوتی حلقے کے امیر ہوں گے۔ مزید یہ طے ہوا کہ دعوتی مشن سے وابستہ افراد کا ماہانہ اجتماع کیا جائے۔ یہ اجتماع اگر لوگوں کے جمع ہونے کی صورت میں نہ ہو سکے تو الیکٹرانک اجتماع کیا جائے، یعنی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page