Sir, this is a spiritual gift for you.
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
کاریں ہیں۔ یہاں کی سڑکوں پر مجھے بظاہر ایسا محسوس ہوا جیسے واشنگٹن ڈی سی دو ٹھہری ہوئی چیزوں کا نام ہے۔ سڑک کے دونوں طرف ٹھہری ہوئی عمارتیں، اور سڑک کے اوپر ٹھہری ہوئی گاڑیاں۔ واشنگٹن امریکا کا دار السلطنت ہے جو ریاست کو لمبیا میں واقع ہے۔
امریکا کے مختلف شہروں میں میری ملاقات ہندو اور مسلمان دونوں فرقوں کے لوگوں سے ہوئی۔ میں نے پایا کہ دونوں ایک ہی خدشہ (fear) میں مبتلا ہیں، وہ یہ کہ میرے بعد میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کچھ لوگوں سے کہا کہ یہ بات آپ کو امریکا آنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ اب جب کہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ امریکا میں سیٹل ہو چکے ہیں، یہ سوچ بعد از وقت ہے۔ اب تو بہر حال آپ کو اس کی قیمت دینی پڑے گی۔ اس قسم کی سوچ حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔
ہرنڈن (واشنگٹن) میں مزعرشیہ کے مکان پر ہم لوگ ٹھہرے ۔ یہاں دوپہر کا کھانا کھایا۔ ظہر کی نماز کے بعد ایک مختصر نشست ہوئی۔ میں نے کہا کہ اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کئی بار ہماری نمازڑٹین (routine) کی نماز ہوتی ہے۔ ایسی نماز کا کیا فائدہ۔ میں نے کہا کہ ریٹن کی نماز میں بھی بڑا فائدہ ہے۔ جب آپ کیفیت والی نماز پڑھیں تو آپ نے شعور کی سطح پر خدا کو یاد کیا۔ اور اگر آپ نے ریٹن کی نماز پڑھی تو اس کا بھی فائدہ ہے۔ اس طرح نفسیاتی سطح پر آپ کو یہ اطمینان حاصل ہو جاتا ہے کہ خدا کی دنیا میں آپ خدا کے باغی نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ نماز کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک رمانئڈر (reminder) ہے۔ شعوری نماز پر کیفیت رمانئڈر ہے، اور ریٹین والی نماز فارمل رمانئڈر۔ ایک نو جوان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بہت حوصلہ مند (ambitious) تھے۔ اُن سے میں نے پوچھا کہ آپ شادی شدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کی شادی ارینج میرج تھی یا لو میرج۔ انھوں نے کہا کہ لو میرج۔ پھر میں نے کہا کہ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ شادی سے پہلے آپ کی بیوی آپ کو ایک اسپیشل خاتون دکھائی دیتی تھیں اور شادی کے بعد وہ آپ کو ایک عام خاتون دکھائی دیتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے کہا کہ یہ ایک واقعہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بہت بڑا سبق دیا ہے ۔ اس تجربے کو آپ جنرلائز کیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز جس کو
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues