Sir, this is a spiritual gift for you.
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
اچھا سمجھ کر آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اُن سب کا حال یہی ہے۔ وہ چیز آپ کو پرکشش دکھائی دیتی ہے، مگر پانے کے بعد وہ سرتا سر بے کشش ہو جاتی ہے۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ دنیا کی چیزوں کو اپنا گول بنانے کے بجائے آپ آخرت کی چیزوں کو اپنا گول بنائیں۔ یہ آپ کے لیے ایک ماسٹر فارمولا ہے۔ ہرنڈن سے ہم لوگ یارڈلے (Yardley) کے لیے روانہ ہوئے۔ یارڈلے میں ڈاکٹر انیس میمن صاحب کے گھر پر ایک پروگرام تھا۔
انڈیا میں سڑک کے دونوں طرف درخت ہوتے ہیں، مگر امریکا میں یہ حال ہے کہ سڑک کے دونوں طرف اتنے زیادہ درخت ہوتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسافر دوطرفہ باغوں کے درمیان سے گزر رہا ہے۔ یہاں جن سڑکوں پر میں نے سفر کیا، تقریباً ہر ایک کا یہی حال تھا۔ یہاں کی سڑکیں عام طور پر بہت زیادہ چوڑی ہوتی ہیں۔ تمام سڑکیں، چاہے وہ شہر کی سڑکیں ہوں یا گاؤں کی سڑکیں، تمام سڑکیں بالکل یکساں ہوتی ہیں۔ یہاں خراب یا تنگ سڑکوں کا کوئی تصور نہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر کار کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ اس لیے بار بار مجھے کار کے ذریعے سفر کرنا پڑا۔ مگر پورے زمانہ قیام میں میں نے ہارن (Horn) کی آواز نہیں سنی۔ یہاں کی سڑکوں پر برابر کاریں دوڑتی رہتی ہیں، لیکن انڈیا کے مقابلے میں، یہاں ہوائی کثافت (air pollution) بہت کم ہے۔ 27 جون 2011 کی شام کو میری لینڈ میں میں اپنے ساتھیوں کے همراه ایلی کاٹ سٹی (Ellicott City) گیا۔ یہاں مرز زیبا کے گھر پر ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں امریکا میں مقیم مسلم خاندانوں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے شرکت کی۔ یہاں میں نے انگریزی میں خطاب کیا۔ میں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو آپ نے قریش کو جمع کیا اور آپ نے اُن کے سامنے اپنا مشن پیش کیا۔ لیکن کسی نے بھی اس کا مثبت جواب نہیں دیا۔ سب خاموش رہے۔ پھر اس کے بعد علی بن ابی طالب کھڑے ہوئے جو اُس وقت 11 سال کے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ اس کے بعد ہمیشہ وہ آپ کے ساتھی بنے رہے۔
میں نے کہا کہ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تاریخ کا آغاز کرنے والے نوجوان
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues