Sir, this is a spiritual gift for you.
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
لوگ تھے۔ دوسرے صحابہ بھی اکثر نوجوان طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ کو دورِ جدید میں اس تاریخ کو دہرانا ہے۔ پھر میں نے ان نوجوانوں کو ایک ماٹو دیا۔ میں نے کہا کہ: Make education your profession, and make Dawah your mission. پروگرام کے خاتمے پر سوال و جواب ہوا۔ رات میں ہم لوگوں کا قیام مزگل زیبا کے مکان پر تھا۔ یہاں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ پروگرام کے خاتمے پر ہماری ٹیم کے ایک ممبر نے پروگرام میں شریک ایک لڑکی سے پروگرام کے بارے میں اس کا تاثر پوچھا۔ اس نے کہا: After this session, I have come to know my responsibility towards Dawah work. 28 جون 2011 کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد مزگل زیبا کے اہلِ خانہ اور اپنے ساتھیوں کی ایک نشست ہوئی۔ اس موقع پر میں نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ ابلیس نے چیلنج دیا تھا کہ وہ سارے انسانوں کو بہکا دے گا، سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے: إلا عبادك منهم المخلصين (40: میںنے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کچھ بندوں کو مداخلت کر کے شیطان کے فتنے سے بچائے گا۔ اس مداخلت کی بنیاد یہ ہوگی کہ جو افراد اتنے باشعور ہوں کہ وہ شیطان کے زیرِ اثر آنے سے اپنے آپ کو بچالیں، وہ اللہ کے مخلص بندے قرار پائیں گے۔ میری لینڈ سے ہم لوگ واشنگٹن ڈی سی کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں 28 جون کی شام کو ڈاکٹر انیس کے گھر پر دوبارہ ایک پروگرام ہوا۔ یہاں خطاب کا موضوع تھا— امریکی مسلمانوں کی دعوتی ذمے داری۔ اس موضوع پر اظہارِ خیال کے بعد آخر میں سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں میں جو مذہبی اور سیاسی اختلافات ہیں، اُس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ غلط فارمولا اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس طبقے کا فارمولا یہ ہے کہ— اختلافات کو مٹاؤ، تا کہ اتحاد قائم ہو۔ یہ درست نہیں۔ صحیح فارمولا یہ ہے کہ— اختلافات کو برداشت کرو، اختلاف کے باوجود اعلیٰ مقصد کے لیے متحد ہو جاؤ۔ اختلاف کا معاملہ اس کو مینیج (manage)
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues