Sir, this is a spiritual gift for you.
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
کرنے کا معاملہ ہے، نہ کہ اس کو مٹانے کا معاملہ۔
خواجہ کلیم الدین صاحب کے پڑوس میں جو گھر ہے، وہاں 29 جون 2011 کی صبح کو دو بھاری ٹرک آئے۔ اس کے ساتھ مختلف مشینیں تھیں۔ معلوم ہوا کہ یہ لوگ درخت کاٹنے کے لیے آئے ہیں۔ انھوں نے مخصوص ٹیکنک کے ذریعے 4 درخت کاٹے_ اس کے بعد اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ پھر مشین نے اس کو بھس بنا دیا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے اس کو ٹرک پر رکھا اور چلے گئے۔ یہ کام یہاں پرائیویٹ کمپنیاں کرتی ہیں۔ وہ ایک درخت کو کاٹنے کے دو سو ڈالر لیتی ہیں۔ امریکا میں ایک لفظ کیپٹیو آڈینس (captive audience) استعمال ہوتا ہے، یعنی وہ لوگ جو کسی جگہ محصور ہوں اور ان کے پاس مطالعے کے سوا کوئی اور مشغلہ نہ ہو، مثلاً اسپتال میں داخل ہونے والے لوگ، جیل میں داخل ہونے والے لوگ اور سینئر سٹیزنس کے لئے بنائے گئے مقامات (senior citizens’ residence)_ اس طرح کے مقامات پر موجود لوگوں کو اگر کتاب یا لٹریچر فراہم کیا جائے تو دوسری مصروفیت نہ ہونے کی بنا پر لوگ ضرور اس کو پڑھتے ہیں۔ مسیحی مبلغین اس موقع کو کافی استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ افراد بھی اس موقع کو استعمال کر رہے ہیں۔ یہ دعوت کو پھیلانے کا اچھا طریقہ ہے۔
29 جون 2011 کی صبح کو بن سلیم (Bensalem) میں ڈاکٹر وقار عالم سے ملاقات ہوئی_ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: الدنیا مزرعة الآخرة (دنیا آخرت کے لئے تیاری کی جگہ ہے)۔ میں نے پوچھا کہ یہاں ایسے کتنے مسلمان ہوں گے جو اس قسم کا دینی ذہن رکھتے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا اندازہ آپ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ میں نے ایک صاحب سے آخرت کی بات کی جو کہ ایک اسلامی تنظیم چلا رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ آخرت کا فیصلہ تو آخرت میں ہوگا، یہاں تو ہمیں دنیا کے اعتبار سے مسلمانوں کی خدمت کرنا ہے۔
اس واقعے سے اندازہ ہوا کہ موجودہ مسلمانوں نے اسلام کا ایک نیا ورژن دریافت کر رکھا ہے۔ بدھ ازم کو بے خدا ریلیجن (godless religion) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues