Al-Risala · February 2012 · page

Man proposes, God disposes

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

ایک بے خدا اسلام (godless Islam) بنا لیا ہے۔ ان کا اسلام ایک لفظ میں، کلچرل ورژن آف اسلام (cultural version of Islam) ہے۔ ان کے یہاں بظاہر اسلام کا ایک فارم ہے، لیکن وہ ایک بے روح فارم (spiritless form) ہے۔ وہ دھوم سے سسٹم کی باتیں کرتے ہیں، لیکن فرد کے تزکیہ کا ان کے یہاں کوئی تصور نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف لیبل کا فرق ہے، ورنہ حقیقت کے اعتبار سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ دونوں کا مشترک طور پر یہ حال ہے کہ دنیا کی تعمیر ان کا واحد کنسرن ہے، آخرت کی تعمیر کا تصور دونوں میں سے کسی کے یہاں نہیں پایا جاتا۔ مغربی ملکوں میں امریکا واحد ملک ہے جہاں اللہ کے فضل سے الرسالہ کے دعوتی مشن کی ایک ٹیم بن گئی ہے۔ اور باقاعدہ انداز میں دعوت کا کام ہو رہا ہے۔ یہ مجھے خدائی منصوبہ معلوم ہوتا ہے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں امریکا کو عالمی قیادت کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ اس لحاظ سے عالمی دعوت کے لیے سب سے زیادہ موزوں جگہ امریکا ہے۔ پیغمبرانہ دعوت کا طریقہ ہمیشہ یہ تھا کہ پیغمبر ام القریٰ (مرکزی شہر) میں مبعوث ہوتے تھے۔ یہی دعوت کا اسلوب ہے۔ ام القریٰ میں دعوت کا کام ہونا بالواسطہ طور پر دوسرے تمام علاقوں میں کام کرنے کے ہم معنی ہے۔

ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں قرآن کی ایک تعلیم بالکل گم ہوگئی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تمام نبی ہدایت یاب تھے اور ہر نبی کی زندگی میں ہدایت کا نمونہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف پیغمبر مختلف حالات میں آئے۔ یہ سب اپنے اپنے اعتبار سے نمونہ ہیں۔ جب بھی کسی جگہ کسی پچھلے پیغمبر جیسے حالات پائے جائیں تو وہاں حالات کی نسبت سے اس پیغمبر کا نمونہ قابل انطباق ہو جائے گا، مگر مسلمان اس تعلیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک مشہور قول ہے:

Man proposes, God disposes

یہی بات حضرت علی نے زیادہ بامعنی طور پر اس طرح کہی ہے: عرفت ربی بفسخ العزائم۔ میں نے کہا کہ مذکورہ قول میں صرف واقعہ کا ذکر ہے، جب کہ حضرت علی کے قول میں اس قسم کے واقعے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page