Man proposes, God disposes
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
سے معرفت کا پہلو اخذ کیا گیا ہے۔
29 جون 2011 کی صبح کو خواجہ کلیم الدین اور ڈاکٹر وقار عالم کو بذریعہ وین (van) شکا گو جانا تھا۔ ان کے علاوہ، ہمارے بقیہ ساتھیوں کو بذریعہ پلین شکا گو جانا تھا۔ فلیڈیلفیا سے شکا گو بذریعہ روڈ تقریباً 15 گھنٹے کا سفر تھا۔ سارا سامان پیک کر کے وین میں رکھ دیا گیا۔ اچانک معلوم ہوا کہ ڈاکٹر فریدہ خانم کا پاسپورٹ نہیں مل رہا ہے۔ تمام سامان جو پیک کر کے وین میں رکھا جا چکا تھا، اُس کو نکال کر پاسپورٹ تلاش کیا گیا، لیکن وہ اس میں نہیں ملا۔ سب لوگ پریشان تھے، کیوں کہ باہر کے ملک میں کوئی آدمی پاسپورٹ کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ تلاش بسیار کے بعد آخر کار ہماری ٹیم کی ایک ممبر نے ایک بیگ میں اس کو دریافت کیا۔ اس دوران ہماری ٹیم کے سارے ممبر پریشان تھے۔ میں پریشانی کے عالم میں بار بار یہ آیت پڑھ رہا تھا: أمن يجيب المضطر إذا دعاه ويكشف السوء (62 : 27)۔ سب لوگ پریشان تھے، مگر خواجہ کلیم الدین صاحب پوری طرح مطمئن تھے۔ اس تجربے کے بعد میں نے کہا کہ ہماری ٹیم کے دو ممبران کی مجھے از سر نو دریافت ہوئی ہے۔ خواجہ کلیم الدین صاحب بطور ماسٹر آف کرائسس (master of crisis)، اور استھی ملہوترا بطور ماسٹر فائنڈر (master finder)۔ اس تجربے سے ایک بات یہ سمجھ میں آئی کہ قرآن میں مذکور بعض واقعات جو بظاہر انفرادی قسم کے واقعات ہیں، اُس میں بھی عام انسانوں کے لیے پائنٹ آف ریفرنس موجود ہے۔ اس وقت مجھے یاد آیا کہ حضرت سلیمان کے تابع جنات نے ملکہ سبا کے تخت کو دور کے ملک یمن سے لاکر یروشلم میں رکھ دیا تھا۔ اُس وقت میری زبان سے یہ دعا نکلی کہ خدا یا، حضرت سلیمان کے زمانے میں یہ واقعہ تیری نصرت سے ہوا تھا۔ اگر یہ پاسپورٹ ا ئر پورٹ پر یا کہیں اور چھوٹ گیا ہو تو فرشتوں کے ذریعے تو اس کو دوبارہ لاکر ہمارے پاس پہنچا دے۔ ڈاکٹر فریدہ خانم اپنے سامان کو بار بار چیک کر کے مایوس ہو چکی تھیں ۔ اس کے بعد مزا سنتھی ملہوترانے دوبارہ اُن کے بیگ کو چیک کیا تو اُس کے اندر کے جیب میں ڈاکٹر فریدہ خانم کا پاسپورٹ رکھا ہوا تھا۔ یہ بلاشبہہ اللہ تعالی کی خصوصی نصرت کا واقعہ تھا۔ 29 جون 2011 کو صبح دس بجے خواجہ کلیم الدین اور ڈاکٹر وقار عالم ایک وین لے کر
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues