Al-Risala · February 2012 · page

Man proposes, God disposes

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

فلیڈیلفیا سے شکا گو جانے کے لیے نکلے۔ یہ لوگ دین میں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسرے اسلامی لٹریچر لے کر نکلے، تا کہ شکا گو میں ہونے والی اسنا کا نفرنس (ISNA Conference) میں لوگوں کو یہ لٹریچر دے سکیں ۔ ان کو رخصت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس قسم کے سفر کو سیرت کی کتابوں میں 'سر یہ کہا گیا ہے، یعنی دعوتی وفد کا ایک جگہ سے دوسری جگہ دعوتی مہم کے لیے جانا۔ اسلام میں سر یہ کی بہت فضیلت ہے۔ ان شاء اللہ آپ لوگوں کو وہی ثواب ملے گا جو سر یہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے۔ قدیم زمانے میں اس قسم کے دعوتی وفد کو سریہ کہا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں اس کو دعوہ آن ویل (Dawah on Wheels) کہا جاسکتا ہے۔

امریکا میں اس وقت تقریباً سات ملین مسلمان آباد ہیں۔ آج کل کی اصطلاح میں، یہ لوگ مسلمس ان ڈائسپورا (Muslims in Diaspora) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مسلمانوں کے کیس کو اگر حدیث میں تلاش کیا جائے تو وہ صحیح البخاری کی اُس روایت میں ملے گا جس کو اس کتاب (البخاری) میں پہلی حدیث کے طور پر نقل کیا گیا ہے: إنما الأعمال بالنيات (عمل کا تعلق نیت سے ہے)۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جس کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے ہو، اس کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے ہے۔ اور جس کی ہجرت کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو، یا دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اُسی چیز کی طرف ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔

جو مسلمان اپنے ملکوں سے نکل کر امریکا آئے اور یہاں آباد ہوئے، عام طور پر اُن کا واحد مقصد ڈالر کمانا اور اپنے بچوں کی دنیا کو بہتر بنانا تھا۔ چناں چہ ان لوگوں کو وہی ملا جو انھوں نے چاہا تھا۔ آج یہ مسلمان اور ان کی اولاد مکمل طور پر مادہ پرست (materialist) بنے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ مسلمان اب دیکھ رہے ہیں کہ ان کے بچے تیزی سے امریکن کلچر کو اپنا رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان بچوں کے باپ اور دادا امریکا اس لیے آئے تھے کہ وہ یہاں اپنے لیے ایک جنت کی تعمیر کریں ، مگر عملاً یہ ہوا کہ ان کی پوری نسل تیزی سے جہنم کی طرف چلی جارہی ہے۔ گویا عملاً یہ لوگ تیز رفتار جہنم ایکسپریس پر سوار ہیں، لیکن اس کے باہر انھوں نے اُس پر جلی حرفوں میں لکھ دیا ہے جنت ایکسپریس ۔ اس قسم

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page