Man proposes, God disposes
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
کے شترمرغ طریقہ (ostrich habit) کا کوئی مثبت فائدہ ملنے والا نہیں۔ ان مسلمانوں کی نجات کا صرف ایک حل ہے، وہ یہ کہ وہ اس کا اعتراف کریں کہ وہ غلط نیت کے ساتھ امریکا آئے۔ صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ صحابہ کی طرح دعوت الی اللہ کی نیت سے بیرونی ملکوں میں جاتے ۔ اگر امریکی مسلمان اعلان کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کر سکیں تو اُن کے درمیان ایک نئی تبدیلی کا آغاز ہو جائے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ اس اعلان کے بعد عملاً یوٹرن (U Turn) لے سکیں اور اپنی پوری زندگی کو دعوہ اورینٹڈ زندگی (Dawah-oriented life) بنا سکیں۔ امریکی مسلمانوں کی، سنڈے اسکول اور سمر کیمپ (summer camp) جیسی اسلامی سرگرمیاں کسی بھی درجے میں اُن کو کوئی فائدہ پہنچانے والی نہیں۔
امریکا کے اس سفر میں غیر متوقع طور پر میں نے دریافت کیا کہ یہاں طاقت ور افراد کی ایک پوری ٹیم تیار ہو چکی ہے۔ یہ لوگ منظم طور پر یہاں دعوہ ورک کر رہے ہیں، اُن کا کام جدید ترین معیار پر ہو رہا ہے۔ ان کے کام کو دیکھ کر میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے یہاں ایک پوری دعوہ انڈسٹری (full fledged Dawah industry) کھول دی ہے جس کو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ میں نے دعوت کا کام 1950 میں شروع کیا۔ اُس وقت میں نے اعظم گڑھ میں اگزی بیشن میں ایک بک اسٹال لگایا تھا جس کے اوپر ایک بڑے بورڈ پر موٹے حرفوں میں قرآن کی ایک آیت (والله يدعوا إلى دار السلام) کا ترجمہ اس طرح لکھا ہوا تھا :
And God calls to the home of Peace (10: 25)
یہ اتنے جلی حرفوں میں لکھا تھا کہ وہ اگزی بیشن کے انٹرنس (entrance) سے نظر آتا تھا۔ اس بورڈ کو اعظم گڑھ کے آرٹسٹ محمد یوسف نے تیار کیا تھا۔ اس کے بعد مسلسل میں دعوہ ورک میں لگا رہا۔ بار بار میں محسوس کرتا تھا کہ میں اس کام کو صرف شروع کر سکتا ہوں، اس کو آخر تک پہنچانا میری استطاعت سے باہر ہے۔ میں نے اپنا یہ احساس اپنی کتاب "الاسلام" (1977) میں درج کیا تھا جو انگریزی کے ایک ناول (The Story of an African Farm) پر مبنی تھا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues