Al-Risala · February 2012 · page

Man proposes, God disposes

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

میری زندگی ہی میں اس دعوتِ مشن کو ایک عالمی دعوہ ورک بنا دیا۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا موجودہ زمانے کے غیر معمولی مواقع ہیں، لیکن دعوت الی اللہ کے لیے ان ذرائع کو غالباً پہلی بار ہماری ٹیم شعوری طور پر استعمال کر رہی ہے۔ فالحمد للہ علی ذلک ۔

امریکہ کے سفر میں میری ملاقات بہت سے پاکستانیوں سے ہوئی۔ ان ملاقاتوں کے درمیان ایک حقیقت کا انکشاف ہوا۔ 1947 سے پہلے کے دور میں مسلمانوں کے جلسوں میں یہ نعرہ سنتا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا: لا الہ الا اللہ! پاکستان 1947 میں بنا، لیکن لا الہ الا اللہ پر مبنی نظام وہاں قائم نہ ہوسکا۔ البتہ اس کا انڈائرکٹ نتیجہ یہ ہوا کہ مختلف اسباب سے پاکستان میں اکسوڈس (exodus) ہوا۔ اور پاکستانی مسلمان بڑی تعداد میں پاکستان سے نکل کر دوسرے ملکوں میں آباد ہوگئے۔ ان غیر مقیم (non-resident) پاکستانی مسلمانوں کے اندر اگر دعوت کا شعور پیدا ہو جائے تو صرف پاکستانی مسلمان ہی ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کے لیے کافی ہو جائیں گے۔ پاکستان کے قیام میں آغاز سے یہ پوٹنشیل (potential) چھپا ہوا تھا۔ اب تاریخ کو انتظار ہے کہ کب یہ پوٹنشیل واقعہ بنے اور اسلام کی عالمی اشاعت ہو جس کا تاریخ کو لمبی مدت سے انتظار ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو اس کی بھاری قیمت دینی پڑی۔ مگر پاکستان بننے کے بعد یہ ہوا کہ وہاں کے مسلمان، پاکستانی لیڈروں کے دعوے کے مطابق، پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے کے بجائے باہر کے ملکوں میں چلے گئے۔ ان پاکستانی مسلمانوں پر خدا کی طرف سے ایک قرض ہے۔ ان پر فرض ہے کہ وہ اس قرض کو چکائیں۔ وہ قرض یہ کہ اپنے عہد کے مطابق، اسلام کا جو کام وہ پاکستان میں انجام نہ دے سکے، اس کو وہ اسلام کی عالمی اشاعت کی صورت میں انجام دیں۔ اس کے بغیر یہ پاکستانی مسلمان اللہ کے یہاں بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ فلیڈیلفیا میں مجھ کو جس کمرے میں ٹھہرایا گیا تھا، اس میں مسٹر جسونت سنگھ کی کتاب : Jinnah, India—Partition, Independence رکھی ہوئی تھی۔ یہ کتاب 670 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں صفحہ 6 پر گوپال کرشن گوکھلے کا ایک قول

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page