Man proposes, God disposes
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
مسٹر جناح کے بارے میں نقل کیا گیا ہے۔ اس وقت مسٹر جناح کانگریس میں شامل تھے: Jinnah is an ambassador of Hindu-Muslim unity عجیب بات ہے کہ جس مسلم لیڈر کو ابتدا میں سمبل آف ہندو مسلم یونٹی سمجھا گیا تھا، اس نے اپنے بعد کے زمانے میں برعکس مثال قائم کی۔ وہ سمبل آف ڈس یونٹی (symbol of disunity) بن گیا۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کو مسٹر محمد علی جناح کا بعد کا رول زیادہ پسند آئے، مگر میرے جیسے انسان کی سوچ کے مطابق، زیادہ بہتر تھا کہ مسٹر محمد علی جناح برصغیر ہند کی تاریخ میں سمبل آف یونٹی کی حیثیت سے درج کئے جاتے۔
29 جون 2011 کو فلیڈیلفیا میں قیام کا آخری دن تھا۔ کئی لوگ ملاقات کے لئے آئے۔ اقبال شیخ، گل زیبا، ویپل چپ (vipul chip) اور ان کی وائف آرتی۔ مسٹر شاہ جہاں اپنی بیوی اور اپنی بیٹی کے ساتھ آئے۔ ان لوگوں سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔
ایک سوال اظہار دین کے بارے میں تھا۔ میں نے کہا اظہار دین کا مطلب سیاسی معنوں میں، غلبۂ دین نہیں ہے۔ اظہار دین کا مطلب ہے۔ اسلام کا فکری غلبہ۔ میں نے کہا سنت اللہ کے مطابق، کوئی واقعہ تدریجی طورپر ہوتا ہے۔ کائنات 15 بلین سال میں تدریجی طور پر وجود میں آئی۔ یہی طریقہ اظہار دین کا بھی ہے۔ رسول اور اصحاب رسول نے اس کا پراسس جاری کیا۔ مغربی تہذیب اس کا نقطۂ انتہا(culmination) ہے۔ شاہ جہاں صاحب 6 سوال لکھ کر لائے تھے۔ اس کو انھوں نے پڑھ کر سنایا۔ میں نے کہا کہ ان سوالات کو آپ الٹی طرف سے لیجئے۔ ان میں سے آخری سوال اظہار دین کے بارے میں تھا۔
ویپل چپ (Vipul Chip) سے میں نے کہا کہ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ ویپل چپ انڈیا میں پیدا ہوئے اور اب وہ امریکا میں سٹل ہو گئے ہیں۔ بار بار پوچھنے کے بعد انھوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ امریکا میں ایک پاکستانی مسلم فیملی رہتی ہے۔ ان کے بیٹے محمد ناصر سے میری دوستی ہوگئی۔ چناں چہ میں ناصر کے گھر جانے لگا۔ جب میں ناصر کے گھر جاتا تو ان کے باپ مجھ سے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues