Al-Risala · January 2012 · page 7

This is a spiritual gift for you.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲، صفحہ ۷

ٹیلی فونی رابطے کے ذریعہ ، جس کو عام طور پر ٹیلی فون کانفرنسنگ کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر میں نے کہا کہ اجتماعی کوشش کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا، اور اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی اتحاد ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ آپ ہر حال میں اپنے ساتھیوں کے درمیان اتحاد کو قائم رکھیں، کسی بھی عذر کی بنا پر اتحاد کو توڑنا آپ کے لیے جائز نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ میں سے ہر شخص اپنے اندر ’’ رائے کی قربانی ‘‘ کا حوصلہ پیدا کرے۔ رائے کی قربانی کے بغیر اتحاد کو برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ آپ باہمی اتحاد کے ساتھ دعوت کا کام کریں۔ اگر کسی معاملے میں ساتھیوں کی رائے مختلف ہو تو آپ لوگ باہم مشورہ اور کھلا ڈسکشن کریں۔ اگر اس ڈسکشن سے اتفاق رائے ہو جائے تو بہتر ہے۔ اگر مشورہ اور ڈسکشن کے باوجود کسی رائے پر تمام ساتھیوں کا اتفاق نہ ہو سکے تو اُس وقت اپنے ذمے دار کے مشورے پر عمل کریں۔ آپ کا ذمے دار جو رائے دے، اُس پر سب لوگ متفق ہو کر باہمی تعاون سے کام کریں۔ اجتماعی زندگی میں اس کے سوا اتحاد کا اور کوئی فارمولا نہیں۔

16 جون 2011 کو فجر کی نماز خواجہ کلیم الدین صاحب کی رہائش گاہ پر ادا کی گئی۔ اس میں میرے ساتھی اور کلیم الدین صاحب کے اہل خانہ شریک ہوئے۔ نماز کے بعد میں نے کچھ تربیتی باتیں کہیں۔ مثلاً یہ کہ انسان (آدم ) کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں بسایا، لیکن شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے بعد اس کو موجودہ زمین پر بھیج دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو پہلے یہ موقع دیا گیا تھا کہ اس کی نسل عمومی طور پر جنت میں داخلہ پائے، لیکن آدم کی روش سے یہ بات سامنے آئی کہ جنت انسان کو عمومی بنیاد پر نہیں، بلکہ انتخابی بنیاد پر دی جانی چاہئے۔ اس لیے انسان کو موجودہ زمین پر بسایا گیا۔ اب وہی انسان جنت میں جائے گا جو اپنے عمل سے اس کا استحقاق ثابت کرے۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر ایک آئیڈیل دنیا کا طالب ہے۔ اس آئیڈیل دنیا کا دوسرا نام جنت (Paradise) ہے۔ انسان کی اس نفسیات میں ایک اہم سراغ (clue) موجود ہے، اور وہ جنت کا وجود ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page