Al-Risala · February 2012 · page

Man proposes, God disposes

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

کنورژن (conversion) کی بات کرتے ۔ وہ کہتے کہ تم ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام میں آجاؤ، کیوں کہ اسلام سپیریئر (superior) مذہب ہے۔ میں اس کا جواب دئے بغیر ان کی بات کو ٹال دیتا۔ میں جب بھی ناصر کے گھر جاتا تھا، میں وہاں لوگوں کو السلام علیکم کہتا تھا۔ ایک دن بلا قصد میری زبان سے نکل گیا— ہری اوم۔ یہ سن کر ناصر کی ماں بہت غصہ ہوئیں ۔ اُس کی ماں نے کہا کہ تم میرے بیٹے کو ہندو بنانا چاہتے ہو۔ اس کے بعد میں نے ناصر کے گھر جانا چھوڑ دیا۔

مسٹر ویپل جب ہمارے ساتھی مسٹر رجت ملہوترا (Rajat Malhotra) کے دوست ہیں۔ بعد کو انھوں نے مسٹر رجت سے گفتگو کرتے ہوئے میرے بارے میں کہا:

‘I truly enjoyed meeting Maulana. He has an effect. There is obviously something special about him.’ یکم جولائی 2011 کی صبح کو فلیڈیلفیا سے شکاگو کے لئے روانگی ہوئی۔ روانگی سے پہلے خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر میں ہمارے سب ساتھی ناشتہ کی میز پر اکٹھا ہوئے۔ میں نے کہا کہ ہماری ٹیم میں خاص بات یہ ہے کہ یہاں کسی بھی قسم کا مٹیریل انٹرسٹ نہیں، نہ براہ راست اور نہ بالواسطہ۔ اس میں نہ کوئی مادی فائدہ ہے اور نہ اسٹیج کا فائدہ اور نہ ہی عزت و شہرت کا فائدہ، پھر بھی ٹیم کا ہر فرد ذاتی جذبے کے تحت متحرک ہے۔ ہر ایک دعوہ ورک کے لیے ہیرو بنا ہوا ہے۔ یہ اس بات کی کھلی ہوئی علامت ہے کہ اس ٹیم کو اللہ کی خصوصی نصرت حاصل ہے۔ ٹیم کے ہر فرد کو خدا کے فرشتے متحرک کئے ہوئے ہیں اور وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ کی خصوصی نصرت کے بغیر کوئی قافلہ اس طرح متحرک نہیں ہو سکتا۔

گل زیبا صاحبہ سے میں نے کہا کہ آپ لوگ جو امریکا میں مقیم ہیں، اس کو اللہ کا منصوبہ سمجھیں ۔ آپ لوگوں کا یہاں آنا اور یہاں مقیم ہونا کوئی اتفاقی بات نہیں ۔ یہ یقینی طور پر خدا کے منصوبے کے تحت ہوا ہے۔ آپ لوگوں کو خدا یہاں اس لیے لایا ہے کہ آپ یہاں کے باشندوں کے سامنے دعوت الی اللہ کا کام کریں ، یعنی ان لوگوں کو خدا کے تخلیقی پلان سے باخبر کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page