Al-Risala · February 2012 · page

Islamic Society of North America

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

یکم جولائی 2011 کی صبح کو ہم لوگ فجر کے بعد خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر سے نیو یارک ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے ۔ مجھ کو مسٹر اقبال شیخ نے اپنی گاڑی پر ائر پورٹ پہنچایا ۔ انھوں نے سی پی ایس کے مشن کو انترنت پر لانے میں بہت زیادہ تعاون کیا ہے۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کئی باتیں کہیں ۔ مثلاً یہ کہ وہ اپنی کمپنی کے پروجیکٹ کے تحت کئی بار ایران جا چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شاہ کے زمانے میں ایران اتنا زیادہ ترقی کر رہا تھا کہ میرا جی چاہتا تھا کہ میں امریکا چھوڑ کر ایران میں مستقل رہائش اختیار کرلوں۔ مگر اب وہاں کی صورت حال بالکل مختلف ہو چکی ہے۔ مسٹر اقبال شیخ نے بتایا کہ اپنے جاب کے تحت وہ اکثر ایران جاتے رہتے ہیں۔ وہاں ایک تعلیم یافتہ ایرانی نے ”ایرانی انقلاب“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔ پہلے یہاں ٹیلی ویژن تھا ، اب یہاں ملا ویژن ہے۔

فلیڈیلفیا سے چل کر شکاگو ائر پورٹ پر ہم لوگ اترے تو وہاں خواجہ کلیم الدین صاحب اور ڈاکٹر وقار عالم صاحب موجود تھے۔ وہ ہم سے ایک دن پہلے بذریعہ دین سفر کر کے شکاگو پہنچ چکے تھے۔ اُن کے ساتھ روانہ ہو کر ہم لوگ سب سے پہلے ڈاکٹر عبد اللہ غازی کے مرکز پہنچے۔ یہاں ظہر کی نماز پڑھی گئی اور دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔ اس کے بعد ہم لوگ ہوٹل گئے۔ اس کا انتظام اسنا (ISNA) والوں نے کیا تھا۔ ڈاکٹر عرفان عمر امریکا میں مقیم ہیں۔ وہ یکم جولائی 2011 کی شام کو ملاقات کے لیے آئے ۔ اُن سے مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔

امریکا کے مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم اسنا (ISNA) ہے۔ امریکا میں اس کا کام کافی پھیلا ہوا ہے۔ اس تنظیم کا پورا نام اس طرح ہے:

Islamic Society of North America

جولائی 2011 کے پہلے ہفتے میں اس کا سالانہ پروگرام شکاگو میں ہوا۔ اس موقع پر ہمارے ساتھیوں نے یہاں بک اسٹال لگایا۔ اس اسٹال کے ذریعے بڑے پیمانے پر لوگوں کے ساتھ انٹریکشن ہوا اور قرآن اور دوسری کتابوں کی اشاعت ہوئی۔ اسنا (ISNA) کے اس پروگرام میں مجھے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page