Al-Risala · February 2012 · page

Islamic Society of North America

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ یہ لیکچر انگریزی زبان میں تھا۔ اس لیکچر کا عنوان یہ تھا: Love of God اس پروگرام کا انتظام ایک بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ میرے سوا اس میں دو اور مقرر تھے، ایک مرد اور ایک خاتون ۔ یہ دونوں عرب تھے۔ تقریر کے بعد لوگوں کا عام تاثر یہ تھا کہ مذکورہ دونوں صاحبان کی بات غیر واضح تھی، چناں چہ وہ سمجھ میں نہ آسکی۔ میری تقریر کے بارے میں لوگوں کا تاثر یہ تھا کہ وہ پوری طرح واضح تھی اور وہ بخوبی طور پر سمجھ میں آئی۔

میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ خدا سے محبت کا ایک پہلو یہ ہے کہ بندے کو اپنے رب سے گہرا قلبی تعلق (strong affection) ہو۔ اسی کو قرآن میں أشَدُّ حُبًّا لله (165: 2) کہا گیا ہے۔ خدا سے محبت کا دوسرا پہلو اتباع رسول ہے۔ اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: قُل إن کنتم تحبون الله فاتبعوني، یحببکم الله (31: 3) یعنی کہو، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو تم میری پیروی کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اس سلسلے میں، میں نے کہا کہ اتباع رسول کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ پیغمبرانہ نمونے کے مطابق ، دعوت الی اللہ کا کام کیا جائے۔

2 جولائی 2011 کی صبح کو ناشتہ کے بعد ہوٹل کے کمرے میں میرے سب ساتھی اکٹھا ہوئے۔ ان سے میں نے کچھ باتیں کیں۔ مثلاً میں نے بتایا کہ آج مجھ کو ہوٹل کے کمرہ سے باہر لے جایا گیا۔ یہ تقریباً آدھا کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ کئی جگہ لفٹ استعمال ہوئی۔ میں نے کہا کہ پچھلے زمانوں میں نہ لفٹ ہوتی تھی اور نہ بلڈنگ کے فرش کو ہموار بنانے کا رواج تھا۔ یہ سب مغربی تہذیب نے کیا۔ میں نے کہا کہ انڈیا کا بادشاہ ہمایوں سیڑھیوں سے چڑھ کر ایک بلڈنگ سے نیچے اتر رہا تھا، وہ گر پڑا ۔ اس کو سخت چوٹ آئی اور اس کی وفات ہوگئی۔ اس قسم کا واقعہ اب پیش نہیں آتا۔ کیوں کہ آج کل آدمی لفٹ کے ذریعے بآسانی بلڈنگوں پر چڑھتا اترتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس تقابل کو سامنے رکھ کر سوچئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کو آج قدیم زمانے کے بادشاہوں سے زیادہ سہولتیں ملی ہوئی ہیں۔ اس طرح کی ہزاروں چیزیں جدید مغربی تہذیب سے انسان کو ملی ہیں۔ اس کے باوجود ماضی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page