Al-Risala · February 2012 · page

Islamic Society of North America

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

پر فخر کرنا اور حال پر شکایت کرنا کتنا زیادہ عجیب ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اس دنیا میں پانے کی سب سے بڑی چیز شکر ہے۔ ایک حدیث کے مطابق ، اگر آپ انسانوں کے بارے میں ناشکر گزار بنے ہوئے ہیں تو آپ خدا کے بارے میں بھی شکر گزار نہیں بن سکتے۔

میں نے کہا کہ دنیا کی زندگی میں ہمیشہ منفی تجربات ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ مثال کے طور پر آج کل کے مسلمان امریکا کے لیے سخت منفی جذبات رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکا نے عراق اور افغانستان پر بم باری کیوں کی۔ میں نے کہا کہ میں کبھی اس قسم کی بات نہیں کہتا، کیوں کہ مجھے اپنے آپ کو منفی جذبات سے آخری حد تک بچانا ہے۔

الرسالہ مشن سے وابستہ ایک صاحب نے کہا کہ امریکا میں ہم کس طرح کام کریں، وہ ہمیں بتائیے۔ میں نے کہا کہ اصل کام دعوت الی اللہ ہے۔ مگر اس کام کو کرنے کے لیے کوئی متعین پروگرام نہیں بتایا جا سکتا۔ اس کے لیے تخلیقی ذہن درکار ہے۔ اس کے لیے آپ اپنے اندر تخلیقی ذہن پیدا کیجئے ۔ اس کے بعد آپ پروگرام ساز داعی بن جائیں گے۔

امریکا میں مقیم الرسالہ کے قاریوں نے اسنا کے فنکشن میں ایک اسٹال لگایا تھا۔ اس کے ذریعہ وہاں الرسالہ مشن کی کتابیں بڑی تعداد میں پھیلیں۔ ایک بار میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ میرے سامنے ایک شخص نے آکر قرآن کا انگریزی ترجمہ دیکھا اور پھر ترجمہ قرآن کی 10 ہزار کاپی کا آرڈر دیا۔ 2 جولائی 2011 کی سہ پہر کو مسٹر غوری کی تنظیم کے تحت ایک پروگرام ہوا۔ اس کا موضوع تھا: سوشل ورک کی اہمیت۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ سوشل ورک کی بلاشبہ اہمیت ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ لوگوں کے اندر چیلنج کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ میں نے مختلف مثالوں کے ذریعہ اس کی وضاحت کی۔ آخر میں حاضرین کی طرف سے کچھ سوالات آئے۔ ایک سوال یہ تھا: In what way can Muslims in India become a giver community? اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ایجوکیشن اور انڈسٹری

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page