Al-Risala · February 2012 · page

Islamic Society of North America

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

جیسے سیکولر شعبوں میں بھی کام کرنے کے مواقع ہیں، لیکن دوسرا بڑا موقع یہ ہے کہ وہ دعوہ ورک کریں۔

دعوہ ورک کرنے والوں کا شمار بھی بلاشبہ گور گروپ (giver group) میں ہوگا۔

2 جولائی 2011 کو اسنا (ISNA) والوں کی طرف سے ایک بڑے ہال میں لنچ کا فنکشن تھا۔ یہاں بڑے پیمانے پر کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ بہت زیادہ کھانا میزوں پر بچا ہوا پڑا ہے۔ اسٹیج سے کچھ تقریریں ہوئیں اور اسنا کے لیے فنڈ کی اپیل کی گئی۔ جب کوئی شخص کوئی رقم دینے کی بات کرتا مثلاً 25 ہزار ڈالر یا 50 ہزار ڈالر تو مقرر بلند آواز سے کہتے تکبیر، تکبیر۔ یہ منظر امریکا کے سوا مسلمانوں کے دوسرے اجتماعات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ یہ فنڈنگ تمام تر کمیونٹی سروس کے لیے تھی۔ لیکن اس کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کی آیتیں زور وشور سے پڑھی جارہی تھیں۔ اسلام میں تکبیر کا مطلب اللہ کی بڑائی ہے، مگر موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اجتماعات میں تکبیر کے نعرے امت کی بڑائی یا اپنی کمیونٹی کی بڑائی کے لیے دھوم کے ساتھ بلند کیے جاتے ہیں، جوکہ عملاً اپنی کمیونٹی کو گلوری فائی کرنے کے ہم معنی ہوتے ہیں۔

2 جولائی 2011 کی شام کو اپنے کچھ ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کے معاملے میں ہم کو حقیقت پسند بننا چاہیے۔ ہم جو دعوتی کام کر رہے ہیں، اس کے دونشانے ہیں۔ ایک نشانہ ہے— اتمام حجت۔ اس نشانے کو پورا کرنے کے لیے توسیع (expansion) کے اصول پر عمل کرنا ہے۔ دوسرا نشانہ ہے— افراد کو تلاش کرنا اور ان کو تربیت دینا۔ اس دوسرے نشانے کے لیے ہمیں استحکام (consolidation) کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ اس بار امریکا میں میرا قیام نسبتاً زیادہ دن تک رہا۔ بار بار مختلف شہروں اور مختلف اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے محسوس کیا کہ پہلے امریکا کا نشانہ کمفرٹ (comfort) حاصل کرنا تھا، مگر اب وہ بڑھ کر اینٹی کمفرٹ (anti-comfort) تک پہنچ چکا ہے۔ مثلاً یہاں باتھ روم کے فرش، وغیرہ اتنے چکنے ہوتے ہیں کہ میں کئی بار پھسل گیا۔ یہاں کے کارپیٹ اور گدے اتنے موٹے ہوتے ہیں کہ اُس پر اپنے آپ کو جمانا مشکل ہوتا ہے۔ یہاں کی کاریں اس طرح کی ہوتی ہیں کہ آدمی کو اپنے ہاتھ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page