Al-Risala · February 2012 · page

Islamic Society of North America

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

پاوں بلکہ شاید عقل بھی استعمال نہ کرنا پڑے۔ کاریں تقریباً خود بخود سڑک پر دوڑتی ہیں۔ یہاں کی بلڈنگوں میں ضرورت سے زیادہ کنڈیشننگ کا عام رواج ہے۔ میں نے دیکھا کہ بلڈنگ کے باہر نہایت خوش گوار موسم ہے۔ مگر بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی اتنی ٹھنڈک ہوتی تھی کہ میرے جیسا آدمی سخت پریشان ہو جائے ۔ یہ بلا شبہ کمفرٹ سے بڑھ کر اینٹی کمفرٹ اور لکوری سے بڑھ کرائینیٹ لکوری ہے۔ میرے نزدیک، یہ ایک غیر فطری کلچر ہے۔

اس مصنوعی اور غیر فطری کلچر نے امریکا کو دو بڑے نقصان سے دوچار کیا ہے۔ ایک ہے افراد کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کے عمل کا رک جانا، اور دوسرا ہے قومی اور سیاسی برتری (political supremacy) کے حصول کے لیے ساری دنیا کو پرابلم میں مبتلا کر دینا۔ اس قسم کے مصنوعی کلچر کو باقی رکھنے کے لیے بھاری قیمت درکار ہوتی ہے۔ اس کے لیے امریکا کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی انڈسٹری کی مشین کو ضرورت سے زیادہ چلاتا ہے۔ اس کا نتیجہ خطر ناک فضائی آلودگی (air pollution) کی صورت میں نکل رہا ہے۔

یہاں اپنے مشن کے ساتھیوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو ایک معاملے میں بہت زیادہ حساس ہونا چاہیے ۔ وہ ہے— اپنے آپ کو بچاؤ (save yourself) کا اصول۔ میں نے کہا کہ تحریکوں کی تاریخ، مذہبی اور سیکولر، دونوں بتاتی ہے کہ قابل کار افراد صرف پہلے مرحلے میں ملتے ہیں، بعد کے مرحلے میں نہیں۔ مثلاً کمیونسٹ تحریک میں پہلے مرحلے میں اینجلز اور لینن جیسے لوگ ملے، مگر بعد کو ایسے لوگ کمیونسٹ تحریک کو نہ مل سکے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی میں پہلے مرحلے میں گاندھی اور نہرو جیسے لوگ ملے، مگر بعد کی تاریخ میں ایسے لوگ نہ مل سکے، وغیرہ۔

یہی حال اسلامی تاریخ کا بھی ہے۔ مثلاً پہلے مرحلے میں ابو بکر و عمر جیسے لوگ ملے، مگر بعد کے مرحلے میں ایسے لوگ نہ مل سکے۔ اس معاملے میں ہماری دعوتی تحریک کوئی استثنا نہیں۔ اس وقت ہماری تحریک پہلے مرحلے میں ہے۔ اس وقت جو لوگ اس تحریک کو ملے ہیں، وہی آخری لوگ ہیں، بعد کے مرحلے میں ایسے لوگ دوبارہ ملنے والے نہیں۔ اس لیے آپ لوگ اپنی قیمت کو پہچانے۔ آپ کسی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page