Al-Risala · February 2012 · page

Islamic Society of North America

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

بھی دوسرے تقاضے کے دباؤ کو ہرگز قبول نہ کیجئے، خواہ وہ خاندانی دباؤ ہو یا خاندان سے باہر کا کوئی دباؤ۔ آپ لوگ اس دعوتی تحریک کا واحد سرمایہ (asset) ہیں۔ اس مشن میں آپ کو ایک تاریخی رول ادا کرنا ہے۔ صحابہ کے واقعات بتاتے ہیں کہ وہ اس راز کو جانتے تھے۔ چناں چہ انھوں نے اپنے مقصد کے سوا کسی بھی دوسرے تقاضے کا ہرگز اثر نہیں لیا۔ صحابہ کی یہی وہ صفت ہے جس کو قرآن میں أشداء على الكفار کہا گیا ہے۔ اس آیت میں أشداء کا مطلب معروف معنی میں، شدید نہیں ہے، بلکہ یہ غیر اثر پذیری کے معنی میں ہے، یعنی اصحاب رسول کسی بھی حال میں کسی خار جی اثر یا دباؤ (pressure) کو قبول نہیں کرتے تھے۔

3 جولائی 2011 کی صبح کو میں ہوٹل ہیٹ (Hyat) میں اپنے کمرے کے باہر دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اُس وقت خواجہ کلیم الدین صاحب اور ڈاکٹر وقار عالم صاحب آئے۔ کلیم الدین صاحب نے مجھ کو دھوپ میں بیٹھا ہوا دیکھ کر کہا کہ درختوں کو فوٹو سنتھیسس (photosynthesis) کے عمل کے لیے دھوپ کا انتظار رہتا ہے۔ اسی طرح آپ کو بھی دھوپ کا انتظار رہتا ہے، تا کہ آپ اسپرچول فوٹو سنتھیسس (spiritual photosynthesis) کا عمل انجام دے سکیں۔

دھوپ میں بیٹھنا مجھے پیدائشی طور پر پسند ہے۔ میں بچپن سے دھوپ میں بیٹھتارہا ہوں۔ بچپن میں جب میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا، اُس وقت بھی میں گاؤں کے باہر بنے ہوئے ایک پل پر صبح شام جاکر دھوپ میں بیٹھا کرتا تھا۔ بعد کو مطالعے کے ذریعے مجھ کو معلوم ہوا کہ دھوپ میں بیٹھنا صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو غسلِ آفتابی (sun bath) کہتے ہیں۔ 3 جولائی 2011 کی سہ پہر کو اسنا (ISNA) کے تحت یہاں کے ایک ہال میں ایک خصوصی پروگرام تھا۔ اس میں تین مصنفین کی کتابیں ٹیبل پر رکھی گئی تھیں اور اُن کو موقع دیا گیا تھا کہ وہ اپنی اپنی کتابوں پر تعارفی تقریر کریں اور اس کے بعد سوالات کا جواب دیں۔ پروگرام کا آخری جز یہ تھا کہ لوگ کتابیں خرید کر مصنف سے اس کا آٹو گراف لیں۔ میرے پاس لوگوں کی لائن لگ گئی۔ بہت سے لوگوں نے یہاں سے میری انگریزی کتابیں خریدیں اور اُن پر میرا آٹو گراف لیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page