Al-Risala · February 2012 · page

Islamic Society of North America

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

آپ کے اندر ماڈسٹی (modesty) پیدا ہو۔ اگر ماڈسٹی آ جائے تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ 3 جولائی 2011 کی شام کو کئی لوگ ملاقات کے لیے ہوٹل میں آ گئے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ عام طور پر لوگ ناقص رپورٹنگ کرتے ہیں۔ مثلاً میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہوتے ہیں۔ مگر جب وہ رپورٹ کرتے ہیں تو ہمیشہ یک طرفہ رپورٹ کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا مسئلہ صرف کسی ایک فریق کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔ حالاں کہ اس دنیا میں کبھی کوئی مسئلہ یک طرفہ نہیں ہوتا، مسائل ہمیشہ دوطرفہ سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔ اِسی غلط ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ مسئلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے۔ اسنا (ISNA) کے اس فنکشن میں ایک بہت بڑے ہال کے اندر بازار لگا ہوا تھا۔ یہاں بہت سے اسٹال تھے، جس میں طرح طرح کی چیزیں فروخت ہو رہی تھیں۔ یہاں اسٹال کے نام عجیب وغریب تھے مثلاً ایک اسٹال کا نام اسلام فیشن (Islam Fashion) تھا۔ ایک اور اسٹال کا نام قرآن اسمارٹ (Quran Smart) تھا۔ ایک اور اسٹال پر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ کی دھن میں گیت بج رہا تھا۔ اِسی طرح یہاں مختلف ناموں سے لوگ ڈونیشن لے رہے تھے۔ کوئی اسکول کے نام سے، کوئی مسجد کے نام سے، کوئی ریلیف ورک کے نام سے، وغیرہ۔ اِسی طرح کے ایک اسٹال پر یہ بورڈ لگا ہوا تھا: Ummah Relief International اس سے اندازہ ہوا کہ آج کل مسلمانوں کے درمیان اسلام کے نام پر بہت سے کام ہو رہے ہیں، مگر اسلام کی اسپرٹ بظاہر کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

اسنا (ISNA) کے فنکشن میں ایک انوکھی بات یہ دکھائی دی کہ اس میں کثرت سے ایسے مسلمان ملے جو نو مسلم تھے۔ اِس میں سیاہ فام اور سفید فام دونوں طرح کے لوگ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکا میں لوگ کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔

ہوٹل کے کمرہ میں 4 جولائی 2011 کی صبح کو میری آنکھ کھلی۔ ابھی میں بستر پر تھا اور لیٹے لیٹے سفر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اچانک خیال آیا کہ انسان عجیب وغریب طور پر دو مختلف چیزوں کا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page