Islamic Society of North America
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
مجموعہ ہے ۔ ایک ، دماغ اور دوسرے ، جسم ۔ ایک طرف ، اس کے اندر سوچنے والا دماغ (thinking mind) ہے ، اور دوسری طرف اس کا ورکنگ جسم (working body) ہے ۔ یہ انسان کے ساتھ خالق کا عجیب معاملہ ہے ۔ کائنات میں ایک طرف پہاڑ اور دریا جیسی مادی چیزیں ہیں ۔ ان کے پاس گویا صرف ورکنگ باڈی ہے ۔ اس کے بعد حیوانات ہیں ۔ ان کے پاس ورکنگ باڈی ہے ، اور سوچنے کی طاقت اتنی کم ہے کہ ان کا دماغ بھی گویا ورکنگ دماغ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے بعد انسان ہے جس کے پاس پورے معنوں میں ایک تھنکنگ دماغ ہے اور پورے معنوں میں ایک ورکنگ باڈی ۔ انسان کی یہی امتیازی صفت ہے جس کی بنا پر قرآن میں انسان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے ۔ اسی احسن تقویم کی بنا پر انسان کے لیے دو چیزیں ممکن ہوتی ہیں ۔ پہلے پلاننگ کرنا اور پھر اس کو عمل میں لانا ۔ بیک وقت یہ دونوں چیزیں انسان کے سوا کسی دوسری مخلوق میں نہیں پائی جاتیں ۔
امریکہ کے اس سفر میں ، میں مختلف مقامات پر گیا اور کثرت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ اس سے اندازہ ہوا کہ امریکہ میں بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو مجھ کو جانتے ہیں ۔ ان جاننے والوں میں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی اور عیسائی بھی اور یہودی بھی ۔ مگر تقریباً ہر ایک ’’ڈالر کلچر‘‘ میں اتنا زیادہ گم ہے کہ اس کو ہمارے دعوتی مشن میں اس کا ساتھ دینے کا موقع نہیں ۔ وہ لفظی طور پر ہمارے مشن کی خوب تعریف کر سکتا ہے ، مگر عملی طور پر کچھ کرنے کے لیے اس کے پاس وقت نہیں ۔ امریکہ کے اس سفر میں ایک بات کا مجھ کو شدت کے ساتھ احساس ہوا ، وہ یہ کہ لوگوں میں دو قسم کے ذہن ہوتے ہیں ۔ معمولی ذہن اور غیر معمولی ذہن ۔ یہاں مجھے کئی ایسے لوگ ملے جو بظاہر دین کے کام میں لگے ہوئے تھے ، مگر عام طور پر وہ اوسط ذہن کے تھے ۔ جو زیادہ ذہین لوگ ہیں ، وہ تقریباً سب کے سب مادی کلچر میں غرق ہیں ۔ ان کو دین کے بارے میں سوچنے کا موقع نہیں ۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے مجھ کو حضرت عمر فاروق کا ایک قول یاد آیا ۔ حضرت عمر نے لمبے تجربے کے بعد کہا تھا: اللهم إني أعوذ بك من ضعف الأمين، وخيانة القوي (خدایا، میں تجھ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues