Islamic Society of North America
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
سے پناہ مانگتا ہوں امانت دار شخص کے ضعف سے، اور قوی انسان کی خیانت سے )۔ گویا جو لوگ دین دار ہیں، وہ عام طور پر ضعیف العقل اور کمزور ہیں۔ اور جو قوی العقل ہیں، وہ دین دار نہیں۔ امریکا جانے سے پہلے، دہلی میں میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ اس وقت امریکا کا موسم کیا ہے۔ سب لوگوں نے بتایا کہ یہاں اس وقت گرمی کا موسم ہے۔ چناں چہ میں اپنے ساتھ گرم کپڑے نہیں لایا۔ مگر امریکا آنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ باہر کی دنیا میں تو ضرور گرمی ہے، مگر بلڈنگوں کی دنیا میں ائرکنڈیشننگ کی وجہ سے سردی۔ اس تجربے کے بعد میں نے سوچا کہ انسان کی پلاننگ کیوں ناقص ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ معاملہ کے صرف کچھ پہلوؤں کو جان پاتا ہے اور کچھ دوسرے پہلوؤں سے وہ بے خبر رہتا ہے۔ ہر پہلو سے کامل واقفیت کے بعد منصوبہ بندی کرنا صرف خدائے عالم الغیب کے لیے ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی دنیا میں ہمیشہ ناقص پلاننگ کے نتائج دکھائی دیتے ہیں، جب کہ نیچر میں منصوبہ بندی اتنی کامل ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کا کوئی خلا اب تک دریافت نہ ہو سکا۔ ہوٹل میں جس اسٹوری (منزل) میں میرا کمرہ تھا، اس میں میں نے دیکھا کہ 212 کے بعد 214 نمبر آگیا۔ درمیان میں 213 نمبر کمرہ موجود نہیں۔ میں نے یہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ کمرہ نمبر 213 کیوں موجود نہیں۔ معلوم ہوا کہ امریکا میں 13 کے عدد کو منحوس عدد سمجھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے بلڈنگوں میں اسٹوری نمبر 13 نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہاں روم نمبر 13 بھی نہیں ہوتا۔ یہ یقینی طور پر توہم پرستی (superstition) کی بات ہے۔ امریکا جیسے ملک میں اس قسم کی توہم پرستی عجیب ہے، مگر وہ بہت زیادہ عام ہے۔ صدر رونالڈ ریگن امریکا کے پریزیڈنٹ تھے، لیکن ان کا یہ حال تھا کہ وہ سونے کا نعل اپنی کوٹ کی اندرونی جیب میں ہمیشہ رکھتے تھے۔ وہ اس کو اپنے لیے اچھا شگون (good omen) سمجھتے تھے۔ اس قسم کی تو ہم پرستی ساری دنیا میں عام ہے، حتی کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بھی اس طرح کی توہم پرستی کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ زندگی میں بار بار انسان یہ تجربہ کرتا ہے کہ یہاں کوئی نامعلوم عامل (unknown factor) ہے جو ہمارے کنٹرول سے باہر ہے۔ خدا پر سچا عقیدہ رکھنے والا اُس کو خدا سے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues