Al-Risala · February 2012 · page

Islamic Society of North America

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

منسوب کر کے توجیہہ کر لیتا ہے، لیکن جو لوگ خدا کو نہ مانیں، وہ اس کی توجیہہ نہیں کر पाते۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے وہ تو ہم پرستانہ نظریات کے تحت اس کی توجیہہ کرنے لگتے ہیں۔

4 جولائی 2011 کی صبح کو اسنا (ISNA) کے بانی ڈاکٹر سید سعید (70 سال) ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کے لیے آئے۔ وہ میرے مشن سے اور میرے حالات سے واقف تھے۔ انھوں نے میری استقامت کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے بعض نظریات کی بہت زیادہ مخالفت ہوئی ، لیکن آپ اپنے اصول پر قائم رہے۔ اب یہ حال ہے کہ عام طور پر لوگ آپ کے نظریات سے اتفاق کر رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس انفراسٹرکچر ہے اور آپ کے پاس لٹریچر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اور آپ کے درمیان تعاون کی صورت پیدا ہو۔ اس سے دعوتی اعتبار سے دونوں کو فائدہ ہوگا۔ انھوں نے ہمارے مشن سے پوری طرح اتفاق کیا۔ انھوں نے دعوت دی کہ میں دوبارہ امریکا آؤں اور اسنا (ISNA) کے پروگرام میں شرکت کروں۔

9/11 کے بعد عام طور پر مسلمانوں کو شبہہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ اُن کو محسوس ہوا کہ اس سے پہلے ہم امریکا میں عزت کے ساتھ رہ رہے تھے، اب ہم کو ذلت کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ اس وقت یہاں کے مسلمانوں میں ایک نیا ذہن پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے اب بھی مسلم ملٹنسی کو کھلے طور پر کنڈم نہیں کیا ہے، البتہ انھوں نے یہ کیا ہے کہ پیچ اپ (patch up) کر کے ایک درمیانی راستہ نکالا ہے۔ مثلاً کرسچن پڑوسی کو پھول کا تحفہ پیش کرنا، انٹرفیتھ ڈائیلاگ کر کے اس میں خوش نما تقریریں کرنا، اکیڈمیوں میں داخل ہو کر ٹالرنس کے موضوع پر مقالات لکھنا اور لکچر دینا، کچھ ظاہری کارروائی کر کے یہ ظاہر کرنا کہ ہم امریکا کے وفادار شہری ہیں۔ اسی طرح امریکا کے بڑے بڑے لیڈروں کو مسلم اداروں میں بلا کر تقریریں کروانا، امن کے موضوعات پر ڈاکومنٹری بنانا، وغیرہ۔ ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آج کل امریکی مسلمانوں کی کوششوں کا خاص نشانہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکا میں اسلام کو با عزت جگہ ملے: We want a dignified presence of Islam in America.

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page