Islamic Society of North America
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
میں نے کہا اس قسم کی نمائشی تدبیروں سے کچھ ہونے والا نہیں۔ اصل یہ ہے کہ آپ مسلم ملٹنسی کو کھلے طور پر کنڈم کریں۔ ماضی کی غلطی کو مانتے ہوئے صحیح معنوں میں امن پسند بنیں۔ مزید یہ کہ آپ پر امن دعوہ ورک کریں۔ دعوہ ورک آپ کو اس ملک میں دینے والا گروپ (giver group) بنا دے گا۔ جب تک آپ دینے والے (giver) نہ بنیں ، آپ کو عزت کا مقام ملنے والا نہیں۔ میں نے کہا کہ مذکورہ جملے میں اسلام کی جگہ مسلم رکھ دیجیے تو یہاں کے مسلمانوں کی سرگرمیوں کا مشترک ٹائٹل مل جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں کا اصل نشانہ امریکی مسلمانوں کو با عزت زندگی دلانا ہے، لیکن اس کو اسلام کا نام دے دیا گیا ہے۔ اس قسم کی کلچرل سرگرمیوں سے مسلمانوں کو با عزت زندگی حاصل ہونے والی نہیں۔ با عزت زندگی کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے دعوت الی اللہ کا کام انجام دینا۔ عرصہ ہوا امریکہ میں ایک ادارہ قائم ہوا تھا۔ اس ادارے کا نام یہ تھا: Islamization of Knowledge اس ادارے کو مسلمانوں کا بڑا تعاون حاصل ہوا۔ اس ادارے کے ایک ممبر سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کو لمبی مدت تک کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ بتائیے کہ اس کا مثبت نتیجہ کیا نکلا۔ مگر وہ کوئی خاص بات نہ بتا سکے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اُن کاموں میں خوب تعاون کرتے ہیں جس میں اُن کو مسلم فخر کی غذا ملتی ہو۔ مثلاً اسلامائزیشن آف نالج ، اسلامائزیشن آف بینکنگ، اسلامائزیشن آف پائٹکل سسٹم ، وغیرہ ۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل کام اسلامائزیشن آف مین (Islamization of man) ہے، یعنی اسلامی بنیادوں پر ربانی شخصیت کی تعمیر، مگر اس کام سے غالباً کسی مسلمان کو کوئی دلچسپی نہیں۔ میرے ہوٹل کے کمرے میں ایک بڑے سائز کا ٹی وی رکھا ہوا تھا۔ ہمارے ساتھی نے ایک بار اس کو کھولا تو اسکرین پر بڑے حروف میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :
Welcome Maulana Wahiduddin Khan to the Hyat Regency. ہوٹل کے ایک رکن نے بتایا کہ ہمارے ہوٹل میں جب کسی ملک کی کسی خاص شخصیت کا قیام ہوتا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues