Al-Risala · February 2012 · page

Islamic Society of North America

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

ہے تو ہم اس طرح اس استقبال کرتے ہیں ، تا کہ ہوٹل میں قیام پذیر لوگوں کو اس کا علم ہو جائے ۔ ایک صاحب جو پاکستان سے آ کر یہاں مقیم ہوئے ہیں ، انھوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ امریکا میں مقیم مسلمانوں کے اندر حب وطن کا جذبہ نہیں ہے ۔ آپ کا یہ کہنا صحیح نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے مسلمانوں کے اندر امریکا کے لیے حب وطن کا جذبہ پوری طرح موجود ہے ۔ میں اس کا ثبوت دیتا ہوں ۔ میری ایک بیٹی جو امریکا میں پیدا ہوئی ، وہ میرے ساتھ پاکستان گئی۔ وہاں اس نے کہا کہ میں امریکا کو مس (miss) کر رہی ہوں ۔

میں نے کہا کہ یہ آپ کی غلط فہمی ہے ۔ آپ کی بیٹی امریکا کو مس نہیں کر رہی تھی ، بلکہ وہ اُس پر عافیت زندگی کو مس کر رہی تھی جو اُس کو پاکستان میں حاصل نہیں تھی ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ حقیقتِ واقعہ کو نہیں مانتے ، اور حقیقتِ واقعہ کو نہ ماننا ہمیشہ ڈبل اسٹینڈرڈ بننے کی قیمت پر ہوتا ہے ۔ اور بلا شبہ اس سے زیادہ بری کوئی اور چیز نہیں ۔

4 جولائی 2011 کی سہ پہر کو ہم لوگ شکاگو کا مشہور سیرس ٹاور (Sears Tower) دیکھنے گئے ۔ اس ٹاور کا موجودہ نام ولس ٹاور (Willis Tower) ہے ۔ اس کی 103 منزلیں ہیں ۔ نیو یارک کا ورلڈ ٹریڈ ٹاور ، ٹوئن ٹاور (Twin Tower) تھا۔ شکاگو کا یہ ٹاور ، سنگل ٹاور (Single Tower) ہے ۔

لفٹ کے ذریعے ہم لوگ اس ٹاور کے اوپر گئے ۔ اوپر سے دیکھنے میں نیچے کی چیزیں چھوٹی نظر آتی ہیں ۔ اس ٹاور کے اوپر پہنچ کر مجھے یاد آیا کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا کے کچھ مخالفین نے نیو یارک کے ٹاور کو ہوائی جہاز سے ٹکرا کر ڈھا دیا ۔ مگر شکاگو کا ٹاور اپنی شان و شوکت کے ساتھ اب بھی موجود ہے ۔ اُس وقت مجھے یاد آیا کہ جب برطانیہ کا کوئی بادشاہ مرتا ہے تو وہ کہتے ہیں :

The king is dead, long live the king!

یعنی بادشاہ مرگیا ، بادشاہ ہمیشہ زندہ رہے ۔ اسی طرح یہ کہنا درست ہوگا کہ : American tower is demolished, long live the American tower.

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page