Islamic Society of North America
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
سیرس ٹاور (Sears Tower) کی بلڈنگ کو ایک مسلمان نے بنایا تھا۔ اُن کا نام یہ تھا— فضل الرحمٰن خاں۔ ٹاور کے فرسٹ فلور پر مٹل (metal) کا ایک اسٹیچو فضل الرحمٰن خاں کا بنا ہوا تھا۔ اس اسٹیچو کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :
The Structural Engineers Association of Illinois Recognizes Fazlur Rahman Khan as one of the great structural engineers of our time. (Chicago, April, 1988)
فضل الرحمٰن خاں آرکیٹیکچرل انجینئر تھے۔ وہ بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے۔ 1982 میں ان کا انتقال ہو گیا، جب کہ اُن کی عمر صرف 52 سال تھی۔ ان کا انتقال ہارٹ اٹیک میں ہوا تھا۔ ہارٹ اٹیک کا سبب اکثر اسٹریس (stress) ہوتا ہے، اور اسٹریس کا سبب اسپرچوئلیٹی سے محرومی ہے۔ فضل الرحمٰن خاں کے اسٹریس کا سبب غالباً یہ تھا کہ وہ معیار پسندی کی حد تک ہیومنسٹ (Humanist) تھے۔ میں نے سوچا کہ فضل الرحمٰن خاں نے فزیکل ٹاور بنایا، لیکن وہ غالباً اسپرچوئل ٹاور نہ بنا سکے۔ یہ ایک عجیب سبق ہے جو اُن کی زندگی سے ملتا ہے۔
انجینئر فضل الرحمٰن خاں کے معاملے میں امریکا نے جس اعلیٰ اعتراف اور قدردانی کا ثبوت دیا ہے، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کی ترقی کا راز کیا ہے۔ وہ راز ایک لفظ میں امتیاز (excellence) ہے۔ امریکا میں امتیازی لیاقت کو فوقیت دی جاتی ہے۔ جس شخص کے اندر یہ صلاحیت ہو، وہ خواہ کسی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کو امریکا میں اپنی صلاحیت کی بھر پور قیمت ملے گی۔ سیرس ٹاور سے واپسی کے بعد میں ہوٹل ہیئت سے ہلٹن ہوٹل میں چلا گیا۔ کیوں کہ ہمارے دوسرے ساتھی اِسی ہوٹل میں مقیم تھے۔ ایک رات ہلٹن میں رہ کر صبح کو دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ 5 جولائی 2011 کو صبح کا وقت ہے۔ میں ہلٹن ہوٹل کی ایک بڑی کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوں۔ سورج کی روشنی میں باہر کی تمام چیزیں صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ ہوٹل شکاگو ائر پورٹ کے بہت قریب ہے، اس لیے یہاں جہاز کی پرواز بہت نیچی ہو جاتی ہے۔ ایک طرف سڑکوں پر کاریں دوڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ دوسری طرف ہوائی جہاز فضا میں چڑیوں کی طرح اوپر اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کل میں سمندر کے کنارے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues