Al-Risala · January 2013 · page

تبصره

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

قومِ نوح کے سامنے ایک طرف، ان کا حال کا پیغمبر تھا جو اُن کو بظاہر ایک عام آدمی کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ دوسری طرف، ان کے ماضی کے قومی اکابر تھے، جن کے گرد اُن کے قُصّاص (story tellers) نے مفروضہ کہانیوں کا خوش نما ہالہ بنا رکھا تھا۔ اس خود ساختہ تقابل میں اُن کو حضرتِ نوح ایک معمولی انسان نظر آتے تھے (11:27)۔ اس کے برعکس، ماضی کی شخصیتیں ان کو بہت بڑی دکھائی دیتی تھیں۔ یہی غلط تقابل تھا جس نے اُن کے اندر وہ بے اصل یقین (false conviction) پیدا کر دیا جس کی بنا پر وہ اپنے معاصر پیغمبر کا انکار کر دیں۔

جب یہ بات واضح ہوگئی کہ قوم کے اندر اب مزید کوئی فرد ایمان لانے والا نہیں ہے تو اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اُس علاقے میں ایک عظیم سیلاب لایا جائے جس میں صالح افراد بچا لیے جائیں اور غیر صالح افراد سب کے سب ہلاک کردئے جائیں۔ اثریاتی شواہد کے مطابق ، قومِ نوح کا مسکن دجلہ اور فرات کے درمیان کا وہ علاقہ تھا جس کو تاریخ میں میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہا جاتا ہے۔ کشتی نوح کا معاملہ پیغمبر کا انکار کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ جو لوگ پیغمبر کا انکار کریں، وہ اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ اس دنیا میں اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے لوگ اس مہلت کو کھو دیتے ہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں رہنے کا مزید موقع پاسکیں۔ چناں چہ مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے اُن کو ہلاک کر دیا جاتا ہے (29:40)۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کے مخاطبین کے ساتھ اس معاملے میں الگ طریقہ اختیار کیا گیا، یعنی ایک عظیم سیلاب (Great Flood) کے ذریعے غیر صالحین کو ہلاک کر دینا اور جو صالح افراد ہیں، اُن کو ایک کشتی کے ذریعے بچا لینا۔ اس خصوصی مصلحت کو قرآن کی دو آیتوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وجعلناھا آيةً للعالمين (29:15) یعنی ہم نے اس (کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: ولقد تر كناها آيةً فهل من مدَّ کر (54:15) یعنی ہم نے اٗس (کشتی) کو ایک نشانی کے طور پر باقی رکھا، پھر کوئی ہے سوچنے والا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page