ازدواجی زندگی
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
ازدواجی زندگی
قرآن کی سورہ البقرہ میں ازدواجی زندگی کے بارے میں ایک تعلیم ان الفاظ میں آئی ہے: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمُ ۖ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلُوقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (2:223) یعنی تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں، پس تم اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو، جاؤ۔ اور تم اپنے لیے آگے بھیجو، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تمھیں ضرور اللہ سے ملنا ہے۔ اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دو:
Your wives are your fields. go, then, into your fields as you will, and send ahead for yourselves, and fear God, and know that you shall meet Him. Give good tidings to the believers. عورتیں تمھارے لیے بمنزلہ کھیت ہیں— یہ نہایت بامعنی تمثیل ہے۔ کھیت مستقبل کی فصل کے لیے ہوتا ہے۔ جب ایک انسان اپنے لیے ایک عورت کا انتخاب کرتا ہے تو وہ گویا اپنے لیے ایک کھیت کا انتخاب کرتا ہے، یعنی ایک ایسا کھیت جہاں وہ اپنے مستقبل کے لیے ایسی فصل اگائے جو اس کے لیے باعتبار دنیا بھی مفید ہو اور باعتبار آخرت بھی مفید۔
ایک شخص جب نکاح کر کے اپنے گھر میں ایک خاتون کو لاتا ہے تو وہ اپنے لیے زندگی کے ایک رفیق کا انتخاب کرتا ہے۔ یہ خاتون ابتدائی طور پر مرد کے لیے گھر کی رفیق (home partner) ہوتی ہے، لیکن طویل تر زندگی کے اعتبار سے، وہ اُس کے لیے ایک فکری رفیق (intellectual partner) کی حیثیت رکھتی ہے۔ پہلے مقصد کے اعتبار سے، عورت پیدائشی طور پر تیار شدہ ہوتی ہے، لیکن جہاں تک فکری رفیق کی حیثیت سے اپنا رول ادا کرنے کا معاملہ ہے، عورت پیدائشی طور پر اس کے لیے تیار شدہ نہیں ہوتی۔ یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نکاح کے بعد عورت کو اس مقصد کے لیے تیار کرے، تاکہ عورت اور مرد دونوں اِس مطلوب مقام کو پاسکیں جو خالق نے اپنے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، اُن کے لیے مقدر کیا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues