ازدواجی زندگی
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
یہ ایک عام تجربہ ہے کہ نکاح کے بعد ابتدائی طور پر مرد کے لیے عورت دلچسپی کا موضوع ہوتی ہے، لیکن جلد ہی بعد دلچسپی کا یہ دور ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا سبب عورت کی کوئی کمی نہیں ہے، بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ مرد نے عورت کو اس حیثیت سے تیار نہیں کیا کہ وہ اُس کے لیے طویل تر زندگی میں اس کی فکری رفیق بن سکے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں حَرْثُ (field) کا لفظ استعمال اول کے لحاظ سے عورت کی فطری حیثیت کو بتاتا ہے۔ اس کے بعد یہ الفاظ ہیں کہ تم اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو، جاؤ۔ اس کا مطلب اصلاً بیوی اور خاوند کے تعلق کی نوعیت کو بتانا نہیں، بلکہ اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ معاملہ تمھارے فطری ذوق سے تعلق رکھتا ہے، اس معاملے میں خود تمھارا فطری ذوق رہنمائی کے لیے کافی ہے۔ زیر بحث معاملے میں، اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ تم اپنے لیے آگے بھیجو، یعنی تم عورت کو اس کے استعمالِ ثانی (فکری رفاقت) کے لحاظ سے تیار کرو، اس تعلق کو تم اپنے مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ بناؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد اگر صحیح معنوں میں اپنی بیوی کو فکری رفیق کی حیثیت سے تیار کرے تو بیوی کی صورت میں وہ اپنے لیے ایک ایسا دانش مند ساتھی پالے گا جو ہر لمحہ اُس کے پاس تبادلہ خیال کے لیے موجود ہو۔ اس قسم کا ایک ساتھی بلا شبہ کسی شخص کے لیے نہایت قیمتی سرمائے کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیوی کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ وہ اپنے خاوند کی ہوم پارٹنر (home partner) ہے، مگر یہ عورت کا ایک کم تر تصور ہے۔ عورت اُسی طرح اللہ کی ایک تخلیق ہے جس طرح مرد اللہ کی تخلیق ہے۔ تخلیقِ خداوندی کے شایانِ شان تصور یہ ہے کہ عورت کو مرد کا لائف پارٹنر (life partner) سمجھا جائے۔ گھر کے محدود تصور سے بلند ہو کر زندگی کے وسیع تر تصور کے مطابق، عورت کو اپنا شریکِ حیات بنایا جائے۔ عورت اور مرد دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس وسیع تر تصور کے مطابق تیار کریں۔ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، انسان کی زندگی دنیا سے لے کر آخرت تک پھیلی ہوئی ہے۔ قبل از موت مرحلہ حیات میں انسان کو اس طرح رہنا ہے کہ وہ قبل از موت مرحلہ حیات میں ایک ایسی مطلوب زندگی گزارے جو موت کے بعد آنے والے ابدی مرحلہ حیات (eternal life span) میں اس کو فلاح سے ہم کنار کرنے والی ثابت ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues