دو اخلاقی معیار
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
دو اخلاقی معیار
قرآن کی سورہ نمبر 12 میں حضرت یوسف کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس قصے سے دو اخلاقی معیار معلوم ہوتے ہیں، ایک یہ کہ آدمی کا شعور اتنا زندہ ہو کہ وہ ہر صورت حال میں غلط موقف کو دریافت کرلے اور اس سے اپنے آپ کو بچائے۔
دوسرا اخلاقی درجہ یہ ہے کہ آدمی ابتدائی مرحلے میں غلط موقف اختیار کرے، لیکن اس کے بعد جب امر حق اُس پر واضح ہو تو وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اپنی اصلاح کرلے۔ پہلے موقف کی مثال سورہ یوسف کی آیت نمبر 24 میں پائی جاتی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کے سامنے ایک امتحانی صورت حال پیش آئی، لیکن حضرت یوسف کی اِس صلاحیت نے اُن کی مدد کی اور وہ پیش آمدہ امتحان میں پورے اترے۔
دوسری مثال سورہ یوسف کی آیت نمبر 51 میں پائی جاتی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے امرأۃ عزیز پہلے مرحلے میں نفس سے مغلوبیت کا شکار ہوگئی اور حضرت یوسف پر غلط الزام (12:25) عائد کر دیا۔ لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ حضرت یوسف مکمل طور پر بے قصور ہیں۔ اس وضاحت کے بعد امرأۃ عزیز نے جو کچھ کہا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّدِقِينَ (12:51) یعنی عزیز کی بیوی نے کہا اب حق کھل گیا۔ میں نے ہی یوسف کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اور بلا شبہ وہ سچا ہے۔
اس دنیا میں آدمی کے لیے دو صورتیں ہیں—ایک، یہ کہ آدمی اپنے اندر وہ اعلیٰ ربانی سوچ پیدا کرے جو ہر موقع پر اس کو صحیح رہنمائی دیتی رہے۔ دوسرا اخلاقی درجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ ہو۔ معاملے کی وضاحت کے بعد وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کو مان کر اپنی اصلاح کرلے۔ انسان کے لیے یہی دو اخلاقی درجے ہیں۔ اس کے بعد کوئی تیسرا اخلاقی درجہ انسان کے لیے نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues