دور زوال کے عبادت خانے
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
دور زوال کے عبادت خانے
حضرت مسیح دو ہزار سال پہلے فلسطین میں آئے۔ اُس وقت فلسطین میں زیادہ تر یہود رہتے تھے۔ اُس زمانے میں یہودا پنے زوال کے آخری دور میں پہنچ چکے تھے۔ حضرت مسیح نے یہودی علما پر سخت تنقیدیں کیں۔ انھیں میں سے ایک تنقید یہ تھی میرا گھر دعا کا گھر کہلائے گا، مگر تم اس کو چوروں کا بھٹ بناتے ہو: My house shall be called a house of prayer, but you یہ معاملہ سادہ طور پر یہود کا معاملہ نہیں ہے، یہ معاملہ دراصل زوال یافتہ امت کا معاملہ ہے۔ ہر امت اپنے آخری دور میں زوال کی اسی حالت تک پہنچتی ہے۔ اس کے عبادت خانوں میں بظاہر بھیڑ ہوتی ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا حال وہی ہو جاتا ہے جو اپنے دور زوال میں یہودی عبادت خانوں کا ہوا تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کے بارے میں فرمایا کہ: المساجد بیوت المتقين (المعجم الأوسط للطبراني، رقم الحديث : 7149) یعنی مسجدیں متقی انسانوں کا گھر ہیں۔ یہ حال مساجد کا اُس وقت ہوتا ہے جب کہ امت اپنے دور عروج میں ہو۔ اس کے برعکس، جب اگلی نسلوں میں بگاڑ آجائے اور امت اپنے دور زوال میں پہنچ جائے، اُس وقت اس کے عبادت خانوں کا جو حال ہوتا ہے، وہ یہ کہ اس کی مسجدیں گویا بیوت المفسدین (مفسدین کا گھر) بن جاتی ہیں، یعنی تقویٰ کی تربیت گاہ کے بجائے عملاً وہ فساد (قومی مذہب اور قومی سیاست) کی تربیت گاہ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ عبادت خانوں کا یہ حال اُس وقت ہوتا ہے جب کہ مذہب، خدائی مذہب کی حیثیت سے زندہ نہیں رہتا، بلکہ وہ قومی مذہب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ قوم کے بگڑے ہوئے رہنما مسجدوں کو اپنا مرکز بنا لیتے ہیں اور پھر وہ عبادت خانوں میں وہی مفسدانہ عمل کرتے ہیں جس کی تصویر حضرت مسیح کے مذکورہ قول میں نظر آتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues