Al-Risala · March 2013 · page

مذہبی میک اپ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

مذہبی میک اپ

زوال کے زمانے میں یہود و نصاریٰ کے درمیان جونئی چیزیں پیدا ہوئیں، اُن میں سے ایک چیز وہ تھی جس کو مذہبی میک اپ (religious makeup) کہا جاسکتا ہے۔ زوال کے زمانے میں اُن کے شیوخ اور علما نے اپنے لیے خصوصی لباس تیار کرائے، تاکہ وہ دوسروں سے ممتاز نظر آئیں۔ زوال کے زمانے میں یہ شیوخ اور علما داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے خالی ہو چکے تھے، چناں چہ اب وہ خصوصی لباس کے ذریعے عوام کے سامنے آنے لگے۔ یہ گویا ظاہری اضافے کے ذریعے داخلی کمی کی تلافی کرنا تھا۔

مذہبی میک اپ کا یہ معاملہ معروف معنوں میں، صرف قدیم یہود و نصاریٰ کے ساتھ خاص نہیں۔ امتِ مسلمہ کے دورِ زوال میں امت کے مذہبی لوگوں کا حال بھی یہی ہوتا ہے۔ وہ مذہبی لباس کے معاملے میں بھی یہود و نصاریٰ کی مضاہاۃ (9:31) کرنے لگتے ہیں۔ وہ جب عوامی مجلس میں آتے ہیں تو وہ مذہبی میک اپ کے ذریعے اپنا ایسا بھیس بناتے ہیں کہ اندر سے کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی باہر سے وہ لوگوں کو بہت زیادہ دکھائی دیں۔

اصل یہ ہے کہ کسی امت پر جب زوال آتا ہے تو وہ اُس وقت آتا ہے جب کہ امت اپنی تعداد کے اعتبار سے اتنی بڑی ہو چکی ہوتی ہے کہ وہ دنیوی اعتبار سے ایک پوری مارکیٹ بن جاتی ہے۔ اُس وقت یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ اگر امت کے شیوخ اور علما لوگوں کے سامنے مذہبی بھیس میں آئیں تو ان کو بہت بڑے بڑے دنیوی فائدے ہو سکتے ہیں۔ اُس وقت امت میں وہ چیز ظاہر ہوتی ہے جس کو مذہبی پروفیشنل ازم (religious professionalism) کہا جا سکتا ہے۔ زوال کے اس دور میں علما اور شیوخ کے درمیان ایک ایسا مذہبی کلچر وجود میں آتا ہے جس کے ذریعے ہر قسم کے مادی فائدے حاصل کیے جا سکیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کہ اُن کے درمیان وہ چیز ظہور میں آتی ہے جس کو ہم نے ”مذہبی میک اپ“ (religious makeup) کہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page