Al-Risala · March 2013 · page

امتِ مسلمہ کی تاریخ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

امتِ مسلمہ کی تاریخ

قرآن کی سورہ آل عمران میں یہ آیت آئی ہے : اِنۡ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقُوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ وَ تِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ آمَنُوۡا وَ یَتَّخِذَ مَنۡکُمۡ شُہَدَاءَ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظَّالِمِیۡنَ (140 :3) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو تمھارے حریف کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے، اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تا کہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور وہ تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے، اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ قرآن کی اس آیت میں خدائی منصوبے کے ایک خاص پہلو کا بیان ہے۔ وہ یہ کہ جب ایک گروہ کو اقتدار ملتا ہے اور پھر جب اقتدار اُس سے چھن کر کسی دوسرے گروہ کے پاس چلا جاتا ہے تو یہ اتفاقاً نہیں ہوتا۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو خدائی منصوبے کی روشنی میں سمجھے۔ سیاسی اقتدار کے معاملے میں اکرام یا اہانت (16-15: 89) کی نفسیات میں مبتلا ہونا درست نہیں۔ قرآن کی مذکورہ بالا آیت میں ظالم کا لفظ معروف ظالم کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کے بارے میں جو اس معاملے میں اللہ کے منصوبے کو نہ سمجھیں اور اس کو ذاتی اہانت کے معنی میں لے کر منفی رد عمل میں مبتلا ہو جائیں۔

امتِ مسلمہ کی تاریخ اِس اعتبار سے تین ادوار میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں امتِ مسلمہ کے ذریعے عرب کا اقتدار بدلا، پھر ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کا خاتمہ ہوا۔ یہ واقعہ اس لیے پیش آیا کہ امتِ مسلمہ تاریخ میں ایک انقلابی رول ادا کر سکے۔ وہ رول تھا— تاریخ کو توہماتی دور سے نکال کر سائنسی دور میں داخل کرنا۔

اس کے بعد آٹھویں صدی عیسوی میں یہ ہوا کہ ایشیا اور افریقہ میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہو گیا۔ اس دوران امت سے جو رول مطلوب تھا، وہ ایک پولٹکل رول تھا، اور وہ تھا خدا کے آخری دین کا ایک محفوظ دین کی حیثیت سے قائم ہو جانا۔ قدیم زمانے میں حفاظتِ دین کے اس واقعے کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page