Al-Risala · March 2013 · page

امتِ مسلمہ کی تاریخ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

ایک سیاسی دبدبہ در کار تھا۔ مسلم ایمپائر کے زمانے میں یہی واقعہ انجام پایا۔ انیسویں صدی کے آخر میں مسلمانوں کا سیاسی دبدبہ تقریباً ختم ہو گیا۔ یہ کوئی منفی واقعہ نہ تھا اور نہ وہ کسی "دشمن" کی مفروضہ سازش کے تحت پیش آیا۔ یہ واقعہ تمام تر اللہ تعالیٰ کے منصوبے کے تحت ظاہر ہوا۔ اس تبدیلی میں یہ اشارہ تھا کہ انقلابی رول اور پولٹیکل رول کے بعد اب امت مسلمہ سے جو رول مطلوب ہے، وہ ایک دعوتی رول ہے۔ اب امت مسلمہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ شکایت اور احتجاج اور تصادم میں اپنا وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ خدا کے دعوتی منصوبے کو انجام دینے کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے۔

سورہ الفرقان میں قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: تَبٰرَکَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِيرًا (1: 25)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ وہ سارے عالم کے لیے نذیر (warner) بنے، یعنی پورے کرۂ ارض کے تمام انسانوں کو خدا کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کر دینے والا۔

واقعات بتاتے ہیں کہ نزول قرآن کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک یہ مقصد اپنی تکمیلی صورت میں پورا نہیں ہوا، کیوں کہ سارے عالم کو آگاہ کرنے کے لیے عالمی کمیونیکیشن درکار تھا۔ قدیم زمانے میں اس قسم کا کمیونیکیشن وجود میں نہیں آیا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی میں پہلی بار اس قسم کا عالمی کمیونیکیشن (global communication) وجود میں آیا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا ہے کہ قرآن کے بارے میں وہ عالمی نشانہ پورا ہو جس کو حدیث میں پیشگی خبر کے طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد: 6/4) یعنی زمین کی سطح پر کوئی ایسا گھر باقی نہیں رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہو جائے۔ موجودہ زمانے کو کمیونیکیشن کا زمانہ (age of communication) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو مواصلاتی ذرائع وجود میں آئے ہیں، انھوں نے پہلی بار اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ اللہ کا کلام سارے عالم میں تمام مردوں اور عورتوں تک پہنچا دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page