Al-Risala · January 2013 · page

حضرت نوح کی کہانی

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح کے معاملے میں کشتی کا طریقہ اس لیے اختیار کیا گیا، تا کہ وہ محفوظ رہے اور بعد کے لوگوں کے لیے علامتی طور پر وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کو جاننے کا ذریعہ بنے۔ کشتی اور طوفان کا طریقہ حضرت نوح کی قوم میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کے علاقے میں آباد تھی۔ اللہ کے حکم کے تحت، وہاں بہت بڑا سیلاب آیا۔ معلوم تاریخ کے مطابق، یہ اپنی نوعیت کا واحد سیلاب تھا۔ جب سیلاب کا پانی اونچا ہوا اور حضرت نوح کی کشتی اس میں تیرنے لگی تو وہ مختلف سمتوں میں جاسکتی تھی، مگر کشتی نے خدائی حکم کے تحت، ترکی کا رخ اختیار کیا۔ بظاہر اس کا سبب یہ تھا کہ میسوپوٹامیا سے قریب ترین پہاڑی سلسلہ جہاں گلیشیر بنتے ہوں، وہ جودی یا ارارات کا سلسلہ کوہ تھا۔ تقریباً 16 سو کلومیٹر کا سفر طے کرکے کشتی نوح ترکی کے مشرق میں واقع جودی پہاڑ پر پہنچی اور وہاں ٹھہر گئی۔ سیلاب کا پانی اترنے کے بعد یہاں کشتی کے لوگ کشتی سے باہر آگئے۔ ان میں تین خاص افراد حضرت نوح کے تین بیٹے تھے — حام، سام، یافت۔ بعد کی انسانی نسل اصلاً حضرت نوح کے انھیں تین بیٹوں کے ذریعے چلی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کے ایک بیٹے یافت (Japheth) یورپ کے علاقے میں آباد ہوئے اور آپ کے دوسرے بیٹے حام (Ham) افریقہ میں آباد ہوئے۔ اور آپ کے تیسرے بیٹے سام (Shem) ایشیا کے علاقے میں آباد ہوئے۔ حضرت نوح کے زمانے تک جو انسانی نسل تھی، وہ براہ راست طور پر حضرت آدم کی نسل تھی۔ حضرت نوح کے بعد جو انسانی نسل دنیا میں پھیلی، وہ زیادہ تر حضرت نوح کے انھیں تین بیٹوں کے ذریعے پھیلی۔

حضرت نوح کی کہانی

حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں جو لوگ بچ گئے تھے، وہ بعد کو دنیا کے مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے۔ دھیرے دھیرے ان کی نسلیں بڑھیں اور پورے کرۂ ارض پر پھیل گئیں۔ یہ لوگ اپنے ساتھ عظیم سیلاب (Great Flood) کی کہانی لے کر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر قوم کے اندر ایک عظیم طوفان کی کہانی کسی نہ کسی صورت میں پائی جاتی ہے۔ لمبے عرصے تک حضرت نوح اور ان کے واقعات

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page