Al-Risala · January 2013 · page

حضرت نوح کی کہانی

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

صرف ایک افسانہ (myth) سمجھے جاتے رہے۔ تاہم چوں کہ بائبل اور قرآن میں اُن کا ذکر موجود تھا، اس لئے لوگوں کے ذہن میں، خاص طور پر یہودی علما اور عیسائی علما کے ذہن میں، یہ سوال برابر باقی رہا کہ اگر حضرت نوح کا قصہ ایک حقیقی قصہ ہے تو اس کا تاریخی ثبوت کیا ہے۔ اس کی تلاش اور تحقیق مسلسل جاری رہی۔ چوں کہ حضرت نوح کا واقعہ بائبل میں تفصیل کے ساتھ آیا تھا، اس لیے وہ یہودی علما اور مسیحی علما کی دلچسپی کا موضوع بن گیا۔ بڑے پیمانے پر اس موضوع کی تحقیق ہونے لگی، خاص طور پر اُس علاقے کی تحقیق جس کو بائبل میں حضرت نوح کا اور ان کی قوم کا علاقہ بتایا گیا تھا۔ بائبل اور قرآن کا فرق حضرت نوح اور ان کی کشتی کا ذکر بائبل میں بھی آیا ہے اور قرآن میں بھی، مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ بائبل میں کشتی نوح کا ذکر صرف ماضی کے ایک قصہ کے طور پر آیا۔ قرآن میں واقعہ بیان کرنے کے علاوہ، ایک اور بات بتائی گئی ہے، وہ یہ کہ حضرت نوح کی کشتی اللہ تعالیٰ کے خصوصی انتظام کے تحت محفوظ رکھی گئی اور بعد کے زمانے میں ظاہر ہو کر وہ لوگوں کے لئے سبق بنے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیتیں یہاں درج کی جاتی ہیں:

فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ (29: 15) یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور ہم نے اس (کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔ وَلَقَدْ تَرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِنْ مُدَّكِر (15:54) یعنی ہم نے اس (کشتی) کو نشانی کے طور پر باقی رکھا، تو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔

إِنَّا لَمَّا طغا الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ (69:11-12) یعنی جب پانی حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کیا، تا کہ ہم اس (کشتی) کو تمھارے لیے یاد دہانی کا ذریعہ بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اس کو یاد رکھیں۔

قرآن کی یہ آیتیں ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں اتریں۔ اُس وقت ساری دنیا میں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page