Al-Risala · March 2013 · page

معرفت کا سفر

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

میری مراد اُس قانون سے ہے جس کو حرکیاتِ حرارت کا دوسرا قانون (second law of thermodynamics) کہا جاتا ہے ۔ اس طبیعی قانون کو دوسرے لفظوں میں ، ضابطۂ نا کارگی (Law of Entropy) کہتے ہیں ۔ یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہو سکتی ۔ ضابطۂ نا کارگی بتاتا ہے کہ حرارت مسلسل با حرارت وجود سے بے حرارت وجود میں منتقل ہوتی رہتی ہے ، مگر اس چکر کو الٹا نہیں چلایا جا سکتا ۔ نا کارگی ، دستیاب توانائی (available energy) اور غیر دستیاب توانائی (unavailable energy) کے درمیان تناسب کا نام ہے۔ اور اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی نا کارگی برابر بڑھ رہی ہے اور ایک وقت ایسا آنا مقدر ہے ، جب کہ تمام موجودات کی حرارت یکساں ہو جائے گی اور کوئی کارآمد توانائی باقی نہ رہے گی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کیمیائی اور طبعی عمل کا خاتمہ ہو جائے گا اور زندگی بھی اُسی کے ساتھ ختم ہو جائے گی ۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : God Arises ، صفحہ 27) مگر اکیسویں صدی کے آغاز میں صورتِ حال یک سر بدل گئی ۔ پچھلے ہزاروں سال کے درمیان فلاسفہ اور مفکرین اور سائنس دانوں نے تہذیبی جنت کو وجود میں لانے کا جو خواب دیکھا تھا ، وہ اپنی تکمیل سے پہلے ختم ہو گیا ۔ ثابت شدہ حالات کے مطابق ، اب اس کی تکمیل کا کوئی امکان نہیں۔ ہزاروں سال سے انسان کا یہ خواب تھا کہ وہ اپنے لیے اس دنیا میں ایک بہتر زندگی بنائے ۔ انسان کی اس تمنا نے وہ چیز پیدا کی جس کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے ۔ تہذیب کا یہ سفر اپنی واضح صورت میں اُس وقت شروع ہوا ، جب کہ انسان نے پہیہ (wheel) دریافت کیا ۔ لمبے سفر کے بعد تہذیب یہاں تک پہنچی کہ صنعتی انقلاب وجود میں آگیا اور انسان ، موٹر کار اور ہوائی جہاز کے ذریعے تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر طے کرنے لگا۔

1970 میں الون ٹافلر کی کتاب فیوچر شاک (Future Shock) چھپی ۔ اس میں مصنف نے یہ اعلان کیا کہ انسانی تہذیب اب انڈسٹریل دور سے نکل کر سپر انڈسٹریل دور میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ گویا انسان کے تہذیبی سفر کا آخری مرحلہ ہوگا ، جب کہ انسان کے تمام مادی خواب پورے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page