دو چیزوں میں فرق نہ کرنا
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
اہل مغرب سے نفرت کرتے ہیں اور مغربی علم سیکھنے کو ایک ناپسندیدہ فعل قرار دیتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کی یہ رائے حقیقت پر مبنی نہیں ہے، وہ تمام تر متعصبانہ فکر (biased thinking) کا نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ جس زمانے میں مغربی علم وجود میں آیا، اُسی زمانے میں ایک اور واقعہ وجود میں آیا جس کو مغربی استعمار (western colonisation) کہا جاتا ہے۔ اِسیی زمانے میں مغربی قوموں، خاص طور پر برطانیہ اور فرانس، نے ایشیا اور افریقہ کے بہت سے ملکوں میں اپنا سیاسی غلبہ قائم کر لیا۔ یہ ممالک اُس وقت مسلم سلطنت کا حصہ تھے۔ اِس سیاسی واقعے نے مسلمانوں کے اندر اہل مغرب کے خلاف شدید نفرت پیدا کردی۔ اِس کے بعد جب 1948 میں برطانی حکومت نے فلسطین کی تقسیم کی اور پھر امریکا، عربوں کے مقابلے میں اسرائیل کا حامی بن گیا، تو اس کے نتیجے میں اہل مغرب کے خلاف مسلمانوں کی نفرت اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ یہ نفرت ابتداء قومی سطح پر ہوئی اور پھر اس کے بعد مسلمان ہر اُس چیز سے نفرت کرنے لگے جو مغرب کی طرف سے آئی ہو۔
دو چیزوں میں فرق نہ کرنا
کہا جاتا ہے کہ ـــ نفرت آدمی کو اندھا اور بہرا بنادیتی ہے۔ یہی واقعہ مغرب کے معاملے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ نفرت کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر جو متعصبانہ ذہن پیدا ہوا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دو چیزوں میں فرق نہ کر سکے ـــ مغربی علم اور اہل مغرب کی عملی کمزوریاں۔ یہ کمزوریاں ہر قوم میں لازماً پیدا ہوتی ہیں، حتیٰ کہ خود مسلمانوں میں بھی۔ اہل مغرب کی جدید تاریخ کا ایک حصہ وہ تھا جو سائنسی علم یا عقلی علم (rational knowledge) سے تعلق رکھتا تھا، کیوں کہ اسلام خود پورے معنوں میں ایک عقلی مذہب (rational religion) ہے۔ جدید سائنسی علم کا یہ حصہ پوری طرح اسلام کے موافق تھا۔ اِس کے ساتھ بشری کمزوری کی بنا پر دو اور ظاہرے وجود میں آئے جو عام طور پر ہر قوم میں وجود میں آتے ہیں— ایک، حقیقتوں کی غلط توجیہہ (misinterpretation) اور دوسرے، آزادی کا غلط استعمال (misuse of freedom)۔ یہ دونوں چیزیں بلاشبہ قابل اعتراض تھیں، مگر وہ اہل مغرب کی انسانی کمزوریاں تھیں، وہ خود
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues