Al-Risala · March 2013 · page

دو چیزوں میں فرق نہ کرنا

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

مغربی سائنس کا حصہ نہ تھیں۔ مگر مسلمان اپنے تعصب کی بنا پر اس فرق کو سمجھ نہ سکے، وہ غلط توجیہہ یا آزادی کے غلط استعمال کی طرح خود مغربی سائنس کو بھی منفی نظر سے دیکھنے لگے۔ مثال کے طور پر مغربی دنیا میں برہنگی (nudity) کا کلچر ہے۔ یہ بات بطور واقعہ درست نہیں ہے، مگر اس کا تعلق فکرِ مغرب سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق آزادی کے غلط استعمال سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امتحان کی مصلحت کی بنا پر انسان کو آزادی دی ہے۔ انسان کو خود اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے یا چاہے تو وہ اس کا درست استعمال کرے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور میں انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا رہا ہے، اسی طرح موجودہ زمانے میں بھی۔ البتہ موجودہ زمانے میں ڈگری کے اعتبار سے اس میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی طرح مغربی دنیا میں شراب کا رواج بھی آزادی کے غلط استعمال سے تعلق رکھتا ہے۔ خود فکرِ مغرب سے اس کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں، وغیرہ۔

اس سلسلے میں دوسرا معاملہ غلط توجیہ (misinterpretation) کا ہے۔ موجودہ زمانے میں مغربی دنیا میں کئی نظریات وجود میں آئے۔ مثلاً ڈارون ازم (Darwinism)، فرائڈازم (Freudism) اور مارکس ازم (Marxism)، وغیرہ۔ یہ نظریات بلا شبہہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف تھے، مگر یہ نظریات فکر مغرب کا براہِ راست حصہ نہیں ہیں، بلکہ وہ زندگی کی غلط توجیہہ سے وجود میں آئے ہیں۔ ہم کو یقیناً دلائل کی بنیاد پر ان نظریات کی تردید کرنا چاہیے، مگر یہ درست نہیں کہ ہم ان نظریات کے حوالے سے خود فکرِ مغرب کو غلط سمجھنے لگیں۔

اس قسم کی برائی ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے، حتیٰ کہ خود مسلم معاشرے میں بھی۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں جن لوگوں نے حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی کو شہید کیا، ان کا کیس یہی تھا کہ انھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ اس طرح موجودہ زمانے میں آزاد مسلم ملکوں میں خود مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے، وہ خود اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page