Al-Risala · March 2013 · page

عصری ذہن

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

یہی معاملہ غلط توجیہہ کا ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں خوارج کا جو ظاہرہ پیدا ہوا، وہ اسلام کی غلط توجیہہ کا نتیجہ تھا۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں اسلام کی سیاسی تعبیر بھی قرآن وحدیث کی غلط توجیہہ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

عصری ذہن

عام طور پر مسلمان عصری ذہن کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ اس کا سبب وہی ہے جس کو الناس أعداء ما جهلوا کہا جاتا ہے، یعنی بے خبری کی بنا پر کسی کو اپنا دشمن سمجھ لینا۔ عصری ذہن کے بارے میں عادلانہ رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت پسندانہ ذہن کے تحت اس کا تجزیہ کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے ، عصری ذہن کا کیس کیا ہے۔ عصری ذہن کی اصل مغربی ذہن ہے۔ مغربی ذہن یورپ کی نشاة ثانیہ (Renaissance) کے بعد پیدا ہونے والے ذہن کا نام ہے۔ اُس دور میں کچھ ایسے افراد یورپ میں اٹھے جنھوں نے فطرت (nature) کا مطالعہ غیر روایتی انداز میں شروع کیا۔ اس سلسلے میں پہلا نمایاں نام اٹلی کے سائنس داں گلیلیو (وفات: 1642) کا ہے۔ گلیلیو تاریخ کا پہلا شخص ہے جس نے فلکیات کے مطالعے میں دوربین (telescope) کا استعمال کیا۔ یہ 1609 کا واقعہ ہے۔ اُس زمانے میں روایتی تصور یہ تھا کہ زمین مرکز میں ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ گلیلیو نے اپنے دور بینی مشاہدے میں جن حقیقتوں کو دریافت کیا، اُن سے یہ اخذ ہوتا تھا کہ سورج مرکز میں ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے۔ سترھویں صدی کے آغاز میں عام طور پر روایتی طرز فکر کا غلبہ تھا۔ اُس وقت گلیلیو کا یہ اعلان ایک دھماکہ خیز واقعہ ثابت ہوا۔ اُس وقت مسیحی چرچ یورپ میں روایتی طرز فکر کا نمائندہ تھا۔ مسیحی پوپ کو یورپ کا بے تاج بادشاہ (uncrowned king) سمجھا جاتا تھا۔ چناں چہ مسیحی چرچ اور سائنس دانوں کے درمیان زبردست ٹکراؤ پیش آیا۔ اس ٹکراؤ میں سائنس دانوں کو فتح ہوئی۔ مسیحی چرچ کے اختیار کا دائرہ دن بدن سمٹنے لگا، یہاں تک کہ 1929 میں حکومت اٹلی اور مسیحی پوپ کے درمیان وہ معاہدہ ہوا جس کو لیٹران معاہدہ (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page