Al-Risala · March 2013 · page

مصالحت کا فائدہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

مصالحت کا فائدہ

بمبئی میں ایک بڑا مسلم تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کے تحت کئی اسکول اور کئی کالج چل رہے ہیں۔ اس ادارے کے ایک اسکول میں ایک مسلمان پرنسپل تھے۔ کسی بات پر انتظامیہ سے پرنسپل کا جھگڑا ہوگیا۔ پرنسپل صاحب نے اس معاملے کو عزت کا سوال (prestige issue) بنالیا۔ بات مزید بڑھی، یہاں تک کہ پرنسپل صاحب نے انتظامیہ کے خلاف عدالتی کیس قائم کر دیا۔ مذکورہ پرنسپل کی مجھ سے بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ نے جو کچھ کیا، وہ یقینی طور پر غلط تھا۔ اب اس کی تلافی صرف یہ ہے کہ آپ اسکول کی انتظامیہ سے معافی مانگیں اور کیس کو یک طرفہ طور پر اٹھا لیں۔ پرنسپل صاحب اپنے پروفیشنل موضوع پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ تیار کر رہے تھے، مگر نزاع کی وجہ سے مقالے کا کام رک گیا۔ میں نے کہا کہ آپ نزاع کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں اور اپنی تمام طاقت اپنی ڈاکٹریٹ کو مکمل کرنے میں صرف کریں۔ پرنسپل صاحب نے میری بات مان لی اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔ انھوں نے اسکول کی انتظامیہ سے معافی مانگی اور کیس کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا۔ اب اس واقعے کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ مصالحت کی اس روش کا فائدہ پرنسپل صاحب کو یہ ملا کہ انتظامیہ کی نظر میں اُن کی تصویر مثبت تصویر بن گئی۔ انتظامیہ کے ذمے داروں نے پرنسپل صاحب کی اِس صلاحیت کو از سرِ نو دریافت کیا، یہاں تک کہ ان کو ترقی دے کر اسکول اور کالج کی ایک تنظیم (organization) کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔

نزاع کا ماحول ایک قاتل ماحول ہے۔ نزاع کے ماحول میں یہ ہوتا ہے کہ طرفین ایک دوسرے کے لیے منفی (negative) بن جاتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی مثبت صلاحیتوں کو دریافت نہیں کر پاتے۔ نزاع کا ماحول یک طرفہ طور پر ختم کرنا بظاہر پسپائی ہے، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے، اس کی حیثیت ایک فاتحانہ اقدام کی ہے۔ نزاع کی حالت امکان کے دروازے کو بند کرنے والی ہے، اور نزاع کو ختم کرنا امکان کے دروازے کو کھولنے والا ہے۔ اسی روش کا نام دانش مندی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page