Al-Risala · March 2013 · page

مانع جرم سزا کی ضرورت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

سوال و جواب سوال حال ہی میں دہلی میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ لوگوں میں کافی غم وغصہ ہے اور ہر آدمی مجرم کو پھانسی کی سزا دینے کی حکومت سے ڈمانڈ کر رہا ہے۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بتائیں کہ کیا اسلام میں کسی بھی بڑے سے بڑے گناہ کے لیے پھانسی کی سزا ہے یا نہیں۔ (حافظ احمد علی، اڈیشہ)

جواب

انڈیا ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں کسی جرم کی سزا یہاں کے ملکی قانون (law of land) کے مطابق ہوتی ہے۔ انڈیا کے سیاق میں، اسلامی قانون کے نفاذ کی بحث کرنا ایک غیر متعلق بات ہے۔ اس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔ جہاں تک اصولی اعتبار سے، پھانسی کی سزا کا تعلق ہے، اسلام کے قوانین میں پھانسی کی سزا کا ذکر نہیں۔ لیکن پھانسی کی سزا کو غیر اسلامی نہیں کہا جا سکتا۔ اسلام میں قانون کی دو صورتیں ہیں—ایک، شرعی حد اور دوسرے، حاکم کی طرف سے دی ہوئی تعزیری سزا (executive order)—اسلامی اصول کے مطابق، حاکم کو یہ حق ہے کہ وہ مخصوص حالات کی بنا پر کسی فرد کے لیے کسی مخصوص سزا کا نفاذ کرے۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ شرعی حد کی حیثیت ایک عمومی قانون کی ہے، لیکن تعزیر ایک استثنائی سزا ہے، اس کی حیثیت قانون کی نہیں۔ اس دوسرے قسم کے قانونی اختیار کو اصطلاح میں حاکم کا اختیار تمیزی (discretionary power) کہا جاتا ہے۔ سوال آپ کی تصنیف ’’کتاب معرفت‘‘ زیر مطالعہ ہے۔ بہت اہم موضوعات پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ آپ کے خلاف منفی باتیں پھیلانے والوں کے لئے یہ کتاب ایک علمی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کے خلاف بہت کچھ پڑھنے کو ملا، البتہ مجھ سمیت بیدار مغز افراد کی ایک بڑی تعداد نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ خدائے برحق آپ کے بدخواہوں کو ضرور ناکام کرے گا۔ ’’صبح کشمیر‘‘ خاص کر

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page