Politics is the art of the possible.
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
ریاست۔ جموں و کشمیر کے باشندوں کے لئے بہت چشم کشا ہے۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ 1991 میں جب کہ وادی بھر میں تحریک زوروں پر تھی، آپ نے صاف صاف بتایا تھا کہ " فیصلے بندوق سے نہیں ہوتے"۔ جناب کافر ماننا صحیح نکلا کہ باہمی بات چیت سے ہی مسائل کا حل ڈھونڈ اجا سکتا ہے۔ (حسن ساہو، کشمیر) جواب کشمیر کے معاملے میں، میری جو کتاب "صبح کشمیر" کے نام سے شائع ہوئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ ایک طے شدہ اشو (settled issue) ہے۔ میں نے کشمیر کے موضوع کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ جن لوگوں نے کشمیر کے سوال کو لے کر کشمیر میں احتجاجی مہم چلائی، وہ بھی غلطی پر تھے۔ اس کے بعد جن لوگوں نے کشمیر کے سوال پر کشمیر میں عسکری تحریک (militancy) چلائی، وہ بھی غلطی پر تھے۔ اب جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کو ہم گفت و شنید یار یفرنڈم کے ذریعے حل کریں گے، وہ بھی غلطی پر ہیں۔ اس قسم کی تمام باتیں "مشت بعد از جنگ" کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یقینی طور پر اُن کا کوئی بھی فائدہ نہیں۔ اس قسم کی کوئی بھی تحریک خواہ بظاہر وہ پُر امن ہو، وہ صرف کشمیریوں کے مسائل میں اضافہ کرنے والی ہے، وہ ہرگز کشمیریوں کے مسائل کو حل کرنے والی نہیں۔
میں نے 1993 میں ہندوستان ٹائمَس میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس مضمون میں کشمیری تحریک اور پنجاب (انڈیا) کی خالصہ تحریک دونوں کے بارے میں، میں نے ایک ہی بات کہی تھی۔ وہ یہ کہ دونوں کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے حقیقت کا اعتراف (acceptance of reality)۔ قومی معاملات میں فیصلے بار بار بدلتے نہیں۔ یہ تاریخ کا اٹل قانون ہے۔ اس تاریخی اصول سے ٹکرانا صرف اپنی تباہی میں دوبارہ اضافہ کرنا ہے۔ مثلاً پاکستان کی قیادت اگر یہ چاہے کہ بنگلہ دیش دوبارہ مشرقی پاکستان بن جائے ، تو یقینی طور پر یہ نا ممکن ہوگا۔ اِسی طرح پاکستانی قیادت اگر یہ چاہے کہ جموں وکشمیر انڈیا سے الگ ہو کر پاکستان کا حصہ بن جائے تو یہ بھی بلا شبہ ایک ناممکن بات ہے۔ اس طرح کے معاملات میں مشہور فارمولا منطبق ہوتا ہے کہ سیاست ممکنات کا کھیل ہے:
Politics is the art of the possible.
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues