Al-Risala · April 2013 · page 11

اصحاب رسول کا رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳، صفحہ ۱۱

محفوظ ہو جانا۔ بائبل کی یہ پیشین گوئی پیغمبر اسلام کے ذریعے کامل طور پر پوری ہوئی۔ نئے دور کا آغاز جبر پر مبنی مذکورہ دونوں سیاسی ایمپائر کا خاتمہ ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ یہ دونوں ایمپائر آزادانہ ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ جب یہ دونوں ایمپائر ختم ہوئے تو دنیا میں آزادی کا ایک نیا دور آیا۔ اس نئے دور کے حالات نہ صرف مسلم مورخین کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں، بلکہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔

انھیں سیکولر مورخین میں سے ایک فرانسیسی مورخ ہنری پرین (Henri Pirenne) ہے، جس کی وفات 1935 میں ہوئی۔ ہنری پرین نے اپنے مطالعے کے نتیجے میں کھلے طور پر اس تاریخی حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ ہنری پرین نے لکھا ہے کہ ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر نے دنیا میں مطلق شہنشاہیت (monarchical absolutism) کا نظام قائم کر رکھا تھا۔ اصحاب رسول نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے اس نظام کو توڑ دیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ ہنری پرین کے الفاظ میں۔ اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا۔ تاریخ کے روایتی نظام کا خاتمہ ہو گیا: Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. (History of Western Europe, p. 46)

ساتویں صدی عیسوی میں جب سیاسی جبر کے نظام کا خاتمہ کیا گیا تو اس کے بعد دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔ یہ انقلاب فوری نتیجے کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ ایک پراسس (process) کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے بعد انسانی زندگی میں پہلی بار ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا۔ یہ تاریخی پراسس برابر چلتا رہا، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا۔ یہ آخری نقطہ انتہا وہی ہے جس کو عام طور پر مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔ اس تاریخی عمل کے دو بڑے دھارے تھے ۔ ایک، وہ جس کو جدید اصطلاح میں، جمہوریت (democracy) کہا جا سکتا ہے۔ اور دوسرا، وہ جس کو جدید ٹکنالوجی پر مبنی صنعت کہنا درست ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page