جمہوریت کا دور
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
عام طور پر مسلم علما مغربی تہذیب کے بعض ناپسندیدہ پہلو کو دیکھ کر اس کے بارے میں منفی ہو گئے ہیں، مگر یہ ناپسندیدہ پہلو دراصل مغربی تہذیب کا کلچرل پہلو ہے، وہی اصل مغربی تہذیب نہیں ہے۔ اصل مغربی تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہی چیز ہے جس کو ہم نے خدا کے دین کے حق میں تائیدی عنصر کی حیثیت سے بیان کیا ہے۔
جمہوریت کا دور
اہل علم کے درمیان عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کے اعتبار سے جو ترقیاں ہوئی ہیں، اُن سب کی بنیاد جمہوریت ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ دراصل انقلاب فرانس (1789) تھا جس کے بعد دنیا میں جمہوریت کا دور آیا، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انقلاب فرانس (French Revolution) ایک تاریخی عمل کا نقطہ انتہا تھا۔ یہ تاریخی عمل انقلاب فرانس سے بہت پہلے عرب میں اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہوا۔ قرآن میں اس معاملے میں یہ اصولی حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا: أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:38) یعنی وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں:
Their affairs are decided by mutual consultation. وہ چیز جس کو موجودہ زمانے میں نظام جمہوریت کہا جاتا ہے، اُسی کو قرآن میں نظام شوریٰ کہا گیا ہے۔ شوریٰ کا یہ تصور اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیاد ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کا جو اجتماعی نظام بنا، اس کو عام طور پر خلافت کہا جاتا ہے۔ اس خلافت کا اگر دوسرا نام تجویز کرنا ہو تو یقیناً وہ جمہوری خلافت ہوگا۔ اس معاملے کی ایک مثال خلیفہ ثانی عمر فاروق (وفات : 644ء) کا ایک واقعہ ہے۔ اس واقعے کو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
”خلیفہ دوم عمر فاروق کے زمانے میں عمرو بن العاص مصر کے گورنر تھے۔ انھوں نے ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کرائی۔ اس دور میں گورنر کے بیٹے کا گھوڑا بھی شریک تھا، مگر جب دوڑ ہوئی تو ایک مصری (غیر مسلم) کا گھوڑا آگے بڑھ گیا۔ مصری نے فتح کے جوش میں کوئی ایسا جملہ کہا جو
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues