Al-Risala · April 2013 · page

جمہوریت کا دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

گورنر کے صاحب زادے (محمد بن عمرو بن العاص) کو برا معلوم ہوا اور انھوں نے مذکورہ مصری کو کوڑے سے مار دیا۔ مارتے ہوئے ان کی زبان سے نکلا: خذہا وأنا ابن الأکرمين (یے لو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں)۔ حضرت انس بن مالک اس قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ مصری اس کے بعد مصر سے چل کر مدینہ پہنچا اور خلیفہ عمر فاروق سے شکایت کی کہ گورنر کے لڑکے نے اس طرح اس کو کوڑے سے ماراہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو، اور فوراً اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیجا کہ عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے محمد بن عمرو جس حال میں ہوں، اسی حال میں ان کو لے کر مدینہ آؤ۔ چناں چہ وہ لوگ مدینہ لائے گئے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو خلیفہ عمر نے فرمایا: أين المصري، دونك الدرة فاضرب بها ابن الأکرمين (مصری کہاں ہے۔ یہ کوڑا لو اور اس سے شریف زادہ کو مارو)۔ اس کے بعد مصری نے کوڑا لیا اور گورنر مصر کے سامنے ان کے صاحب زادہ کو مارنا شروع کیا۔ وہ مارتا رہا، یہاں تک کہ ان کو زخمی کر دیا۔ خلیفہ عمر درمیان میں کہتے جاتے تھے کہ شریف زادہ کو مارو۔ جب وہ خوب مار چکا تو خلیفہ عمر فاروق نے کہا کہ ان کے والد عمرو بن العاص کے سر پر بھی ایک کوڑا مارو، کیوں کہ خدا کی قسم، ان کے بیٹے نے صرف اپنے باپ کی بڑائی کے زور پر تم کو مارا (فواللہ ما ضرب بك ابنه إلا بفضل سلطانہ)۔ مصری نے کہا کہ اے امیر المومنین، جس نے مجھ کو مارا تھا، اس کو میں نے مار لیا۔ اس سے زیادہ کی مجھے حاجت نہیں۔ خلیفہ عمر نے کہا: خدا کی قسم، اگر تم ان کو بھی مارتے تو ہم تمھارے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوتے، یہاں تک کہ تم خود ہی ان کو چھوڑ دو۔ پھر آپ نے عمرو بن العاص سے مخاطب ہو کر فرمایا: يا عمرو، متى استعبدتم الناس وقدولدتہم أمهاتهم أحراراً (اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالاں کہ اُن کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا)۔ سیرة عمر بن الخطاب، علي محمد الصلابي (1/306)

ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب کے تحت پیدا ہونے والا یہ جمہوری پراسس

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page