Al-Risala · April 2013 · page

جمہوریت کا دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

(democratic process) تاریخ میں سفر کرتا رہا۔ آخری کار وہ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے مغربی یورپ پہنچا۔ خلیفہ عمر فاروق کے مذکورہ واقعے کے تقریباً 11 سال بعد فرانس کے جمہوری مفکر روسو (Jean Jacques Rosseau) نے اپنی مشہور کتاب سوشل کنٹریکٹ (Contract Social) 1762 میں شائع کی۔ اس کتاب کا پہلا جملہ خلیفہ عمر فاروق کے قول کی بازگشت تھا۔ کتاب کا وہ پہلا جملہ یہ تھا ۔ انسان آزاد پیدا ہوا تھا، لیکن میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں: Man was born free, but I see him in chains. پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً 30 سال بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ شورائی خلافت اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے، ایک خاندانی خلافت بن گئی، لیکن اسلامی انقلاب کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ اس ظاہری تبدیلی کے باوجود خلافت کا جمہوری مزاج بدستور باقی رہا۔ اس معاملے کی بہت سی مثالیں تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ بطور مثال یہاں ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ ہارون رشید کا ایک واقعہ ہارون رشید عباسی دور کا پانچواں خلیفہ ہے۔ وہ 766 میں پیدا ہوا اور 809 میں اس کی وفات ہوئی ۔ اس کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: وذكر أن يهوديا كانت له حاجة عند هارون الرشيد، فاختلف إلى بابه سنةً، فلم يقض حاجته، فوقف يوماً على الباب - فلما خرج هارون سعى حتى وقف بين يديه وقال: اتق الله يا أمير المؤمنين، فنزل هارون عن دابته وخرّ ساجداً - فلما رفع راسه أمر بحاجته فقضيت - فلما رجع قيل له : يا أمير المؤمنين، نزلت عن دابتك لقول يهودي- قال : لا، ولكن تذكرت قول الله تعالى : وإذا قيل له اتق الله أخذته العزة بالإثم، فحسبه جهنم، ولبئس المهاد (تفسير القرطبي، 19/3) یعنی کہا جاتا ہے کہ ایک یہودی تھا جس کو ہارون رشید سے ایک کام تھا۔ وہ شخص اس کام کے لیے خلیفہ کے دروازے پر ایک سال تک جاتا رہا، مگر خلیفہ نے اس کی ضرورت پوری نہ کی، پھر ایک دن وہ یہودی، خلیفہ کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ جب ہارون رشید باہر نکلا تو وہ شخص تیزی سے آکر خلیفہ کے سامنے کھڑا ہو گیا،

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page