Al-Risala · April 2013 · page

اسلامی تحریک اکیسویں صدی میں

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

وغیرہ۔ یہاں ول ڈیورنٹ کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے:

Muslim scientists helped in laying the foundations for an یعنی مسلم سائنس دانوں نے سائنٹفک طریق عمل میں اپنے کنٹری بیوشن اور اپنے تجرباتی اور کمیاتی منہج کے ذریعے سائنسی مطالعے کی بنیاد رکھنے میں مدد دی۔

اسلامی تحریک اکیسویں صدی میں

قرآن کی مذکورہ آیات (9-61:8) سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے جو انقلاب مطلوب تھا، اُس انقلاب کے دو حصے تھے—ایک، اتمام نور، اور دوسرے، اظہار دین۔ اب اکیسویں صدی میں یہ دونوں مطلوب چیزیں پوری طرح واقعہ بن چکی ہیں۔ اس طرح اب اسلامی تحریک اپنے فائنل دور میں پہنچ چکی ہے۔ اب فائنل رول اہل ایمان کو ادا کرنا ہے۔ اب اہل ایمان کا کام ہے کہ وہ اس تاریخی انقلاب کو سمجھیں اور اس کے ذریعے پیدا ہونے والے امکانات (opportunities) کو بھرپور طور پر استعمال کریں۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اس مطلوب خداوندی کا ایک پہلو وہ تھا جس کو قرآن میں، اتمام نور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اتمام نور سے مراد ایک ایسا واقعہ ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے، پوری طرح ایک پرامن اور غیر سیاسی واقعہ ہے، اور وہ ہے خدا کے دین کے مستند ایڈیشن کا پوری طرح محفوظ ہو جانا۔ یہ واقعہ اس طرح انجام پا چکا ہے کہ خدا کی کتاب (قرآن) کا متن (text) کامل طور پر محفوظ ہو چکا ہے۔ اسی کے ساتھ پرنٹنگ پریس کا دور دنیا میں آگیا ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا ہے کہ قرآن کا متن اور اس کے ترجمے تیار کر کے ہر زبان میں شائع کیے جائیں اور اس کو تمام اقوامِ عالم تک پہنچا دیا جائے۔ اس سلسلے میں دوسرا مطلوب وہ ہے جس کو قرآن میں اظہار دین کہا گیا ہے، یعنی دین کو غلبہ کی حیثیت مل جانا۔ یہ دوسرا مطلوب بھی اکیسویں صدی میں پوری طرح حاصل ہو گیا ہے۔ اب اہل ایمان کو صرف

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page