اسلامی تحریک اکیسویں صدی میں
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
یہ کرنا ہے کہ وہ اظہارِ دین کے ذریعے حاصل ہونے والے مواقع کو بھرپور استعمال کریں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، اظہارِ دین سے مقصود یہ تھا کہ دنیا میں وہ حالتِ فطری قائم ہوجائے۔ یہ واقعہ بھی پوری طرح انجام پا چکا ہے۔ اب دنیا میں پوری طرح مذہبی آزادی آچکی ہے۔ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر دنیا کے کسی ملک میں دعوتی مشن کو جاری کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ اس انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ انسانی تاریخ میں تلوار کا دور ختم ہو گیا۔ اب صرف پر امن عمل کا دور ہے۔ تاریخ کا یہ دور عین دعوتی مشن کے حق میں ہے۔ اظہارِ دین، یعنی دنیا میں حالتِ فطری کے قائم ہونے کی بنا پر بہت سے موافق حالات وجود میں آئے ہیں۔ ان میں سے دو بے حد اہم ہیں۔ ان میں سے ایک ہے، کائنات میں چھپی ہوئی اللہ کی نشانیوں کا دریافت ہو جانا۔ اور دوسرا ہے، جدید مواصلات (modern communication) جس نے تاریخ میں پہلی بار اُس عالمی مشن کو مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تَبٰرَکَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِيرًا (25:1) آیات الہی کا ظہور آیات اللہ یا آیات معرفت کا ظہور پیشگی طور پر مقدر تھا۔ قرآن میں اس کی پیشین گوئی ان الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ اٰیٰتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ قرآن کی اس آیت میں جس چیز کو آفاق و نفس میں نشانیوں کا ظہور بتایا گیا ہے، وہ دراصل دورِ جدید میں نظریاتی سائنس کے ذریعے دریافت ہونے والے حقائقِ فطرت ہیں۔ ان حقائق نے دورِ جدید میں معرفت خداوندی کے نئے دروازے کھول دئے ہیں۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اللہ کا کوئی بندہ تخلیقاتِ الہیہ میں کمالاتِ الہیہ کو دیکھے اور معرفت خداوندی کا اعلیٰ درجہ حاصل کرے۔ نیز اسی کے ذریعے یہ بھی ممکن ہو گیا ہے کہ ان حقائقِ فطرت کو دعوت الی اللہ کے عمل میں جدید دلائل کے طور پر استعمال کیا جائے ۔ اس طرح دعوت کے عمل کو خود انسان کے علمی مسلمہ کے مطابق ثابت شدہ بنا دیا جائے۔ اس سائنسی انقلاب کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو موجودہ زمانے میں دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس دورِ مواصلات نے تاریخ میں پہلی بار
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues