اسلامی تحریک اکیسویں صدی میں
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ دعوت الی اللہ کے اُس عالمی نشانے کو پورا کیا جا سکے جس کی پیشین گوئی ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں کی گئی تھی : لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام، بعز عزيز وذل ذليل (زمین کی پشت پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر باقی نہیں رہے گا، جہاں اللہ اسلام کا کلمہ نہ پہنچادے، عزت والے کو عزت کے ساتھ اور ذلت والے کو ذلت کے ساتھ، یعنی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے) (willingly or unwillingly)۔ دنیا میں حالتِ فطری کے قائم ہونے سے موجودہ زمانے میں جو نئے مواقع کھلے ہیں، وہ سارے انسانوں کے لیے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ان مواقع پر کسی ایک گروہ کی اجارہ داری (monopoly) قائم ہوجائے۔ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، آزادی (freedom) ہر انسان کا فطری حق ہے، مومن کا بھی اور غیر مومن کا بھی۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ آزادی صرف اہل ایمان کو حاصل ہو اور دوسرے لوگوں کے لیے وہ منسوخ قرار پائے۔ دوسرے لوگ بھی اپنی آزادی کو کھلے طور پر استعمال کریں گے۔ اگر کسی کے استعمال آزادی سے اہل ایمان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو یہ اہل ایمان کا اپنا مسئلہ ہے، وہ دوسروں کا مسئلہ نہیں۔ دوسروں پر صرف یہ پابندی لگائی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی آزادی کو اس طرح استعمال نہ کریں کہ وہ دوسروں کے لیے جسمانی جراحَت (physical injury) کا سبب بن جائے۔ اس ایک پابندی کے سوا، کوئی اور پابندی نہ مطلوب ہے اور نہ ممکن۔ خلاصہ کلام ایک اسلامی اسکالر کا مقالہ نظر سے گزرا۔ اس مقالے میں انھوں نے لکھا تھا کہ اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ بنیادی طور پر دو ہے ــــ توحید اور عدل۔ توحید (Monotheism) سے مراد ان کے نزدیک انفرادی عقیدہ تھا، اور عدل (justice) سے مراد عدل پر مبنی اجتماعی نظام۔ انھیں دو تصورات کے تحت انھوں نے پورے اسلام کی تشریح کی تھی۔
مگر میرے مطالعے کے مطابق، اسلام کا یہ تصور درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید اور عدل دونوں ہی انفرادی نوعیت کے احکام ہیں۔ توحید سے مراد ہے ایک انسان کا انفرادی عقیدہ، اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues